ابنا: بلوچستان میں شدید ترین زلزلے سے متاثرہ اضلاع آواران اور کیچ میں ریسکیو اور ریلیف کا عمل جاری ہے جبکہ دونوں اضلاع میں آج مزید 7 افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئیں، صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 355 ہوگئی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق زلزلے سے تباہ ضلع آواران کے علاقے سے گھروں کے ملبوں سے 6 افراد کی لاشیں ملی ہیں، اس کے ساتھ ہی آواران میں جاں بحق افراد کی تعداد 311 ہوگئی، جبکہ کیچ میں بھی زلزلے سے ایک زخمی دم توڑ گیا اور وہاں جاں بحق افراد کی تعداد 44 ہوگئی ہے۔
مجموعی طور پر دونوں اضلا ع میں جاں بحق افراد کی تعداد 355 ہوگئی ہے اور 619 افراد زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کو اوتھل، خضدار اور کراچی میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزراء نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور حکام کی جانب سے انہیں بریفنگ دی گئی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ پاک فوج کے ڈاکٹرز اور سرجنز پر مشتمل عملہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کررہا ہے۔
بلوچستان میں آنے والے خوفناک زلزلے سے آواران ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے، 70 فیصد عمارتیں زمیں بوس ہوچکی ہیں، جس کے نتیجے میں زلزلہ متاثرین کی مجموعی تعداد 3 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
ملبے تلے دبے کئی افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ سانحے میں جاں بحق ہونے افراد کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
ادھر پاک فوج اور دیگر امدادی ٹیمیں ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، ہیلی کاپٹرز کی مدد سے متعدد زخمیوں کو کراچی پہنچایا جا چکا ہے۔
کئی علاقوں میں رسائی مشکل ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیمیں نہ پہنچ سکیں، متاثرہ علاقوں میں ملبہ گرنے سے سڑکیں بند ہیں، جبکہ بجلی اور مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں پینے کی پانی اورکھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت دیکھی جارہی ہے، طبی سہولتوں کا فقدان ہے جبکہ مقامی اسپتالوں میں مزید زخمیوں کے علاج کیلئے گنجائش نہیں ہے، امدادی کیمپوں کی بھی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں افراد نے رات کھلے آسمان تلے گزاری۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/٭۔٭
25 ستمبر 2013 - 20:30
News ID: 466975
بلوچستان کے ضلع آوران میں قیامت خیز زلزلے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 355 تک جاپہنچی ہے جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہیں، طبی سہولیات کے فقدان کے باعث زخمیوں کی بڑی تعداد کو کراچی منتقل کیا گیا ہے۔