اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک صہیونیوں کو مشکوک طرز پر گولی مار کر ہلاک کئے جانے کے بعد سے الخلیل بدستور صہیونیوں کے گھیرے میں ہے؛ شہر کی طرف جانے والے تمام راستے بند ہیں اور ہر جگہ چیک پوسٹوں قائم کی ہیں اور الخلیل کے شمال میں "بیت عنون" کے بیرونی راستوں کو کنکریٹ کے بلاکوں سے بند کردیا ہے۔ صہیونی فوج کے ترجمان نے کہا کہ تلاشی کے لئے ہونے والی کاروائی پوری شدت سے جارہی رہے گی۔ صہیونی وزیر جنگ "موشے یعلون" نے کہا: گذشتہ روز سیکورٹی اداروں کے ساتھ اسرائیلی فوجی کے قاتل کی گرفتاری کے سلسلے میں ضروری صلاح مشورے کئے گئے اور قاتل کو اپنے عمل کی قیمت چکانا پڑے گی۔ اس سے قبل صہیونی افواج کی اسٹاف کمیٹی کے سربراہ نے کہا تھا کہ مغربی کنارے میں صہیونی افوا ج کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے/صہیونی ریاست نے پیر کے زور مغربی پٹی سے 12 افراد کو گرفتار کیا۔یاد رہے کہ ایک صہیونی فوجی کو صہیونی افواج کی طرف سے حرم ابراہیمی پر حملے کے دوران مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔ صہیونی ذرائع نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز کے حملے کے دوران ایک صہیونی سپاہی زخمی ہوا جس کو "ہداسا عین کارم" کے علاقے میں واقع اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی شدت کی وجہ سے جانبر نہ ہوسکا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
24 ستمبر 2013 - 20:30
News ID: 466405
ایک صہیونی فوجی کی مشکوک ہلاک کے بعد صہیونیوں نے منگل کے روز الخلیل میں درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار اور 11 کو پلاسٹگ گولیوں کا نشانہ بنا کر زخمی کیا اور کئی افراد آنسو گیس کا نشانہ بن کر بےہوش ہوگئے۔