ابنا: رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سرکاری ذرائع کی طرف سے انکشاف کیا گیا ہے کہ دہشت گرد راولپنڈی میں بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان طرز کی ایک اور کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس میں جیل پر حملہ کرکے دہشت گرد اپنے ساتھیوں کو رہا کرانا چاہتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جیلوں میں دہشت گردوں کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ رابطے کے لیے جیل کا عملہ انہیں موبائل فون کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس صورتحال اور مستقبل میں کسی بڑی دہشت گردانہ کارروائی سے بچنے کے لئے پولیس حکام نے موبائل کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جیلوں کے آس پاس موبائل سگنلز معطل کر دیں۔ ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل راولپنڈی میں اس وقت 43 خطرناک قیدی موجود ہیں جن کے بارے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جیل کا عملہ انہیں جیل کے باہر اپنے ساتھیوں کے ساتھ رابطہ کرنے کے لیے موبائل فون کی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جیل کے عملے کے پاس بیک وقت کئی قسم کے موبائل فون اور سم کارڈ ہیں جس نے پولیس حکام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ حکام چاہتے ہیں کہ جیل کے آس پاس موبائل فون کے سگنلز کام کرنا بند کر دیں تو دہشت گردوں کے بیرونی رابطوں کوختم کیا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/٭۔٭