21 ستمبر 2013 - 20:30
مغربی ممالک کو یورینیم افزودہ کرنے کے ایرانی حق کو تسلیم کرنا چاہیے

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہےکہ مغرب کو چاہیے کہ وہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو ملت ایران کے مسلم حق کی حیثیت سے تسلیم کرلے۔

ابنا: صدر مملکت جناب حسن روحانی نے آج رہبرکبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ کے مزار پرہفتہ دفاع مقدس کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کو چاہیے کہ وہ ایران کے تمام ایٹمی حقوق منجملہ یورینیم کی افزودگي کو عالمی قوانین کے تحت تسلیم کرلے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کو جان لینا چاہیے کہ ایران ساری دنیا کو صلح و دوستی اور علاقائي نیز عالمی مسائل کو تعاون اور مل جل کرحل کرنے کا  پیغام دیتا ہے۔

صدر مملکت نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے ایٹمی معاملے کو حل کرنے کے لئے مغرب سے کسی پیشگي شرط کے بغیر مذاکرات کرنے کو تیار ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مد مقابل کو برابری اور احترام کے اصول نیز دوطرفہ مفادات کے تناظر میں مذاکرات کرنے چاہیں۔ 

صدر جناب حسن روحانی نے کہا کہ ایران ایک بڑا اور انقلابی تہذیب و تمدن کا ملک ہے اسی وجہ سے ہم دنیا کی بڑی طاقتوں کو نصحیت کرتے ہیں کہ ملت ایران کے ساتھ زور زبردستی اور دھمکیوں کی زبان استعمال نہ کرے کیونکہ دھمکیاں، جنگ اور سفارتکاری   ایک ساتھ کوئي معنی نہیں رکھتیں اور کوئي بھی آزاد منش اور اھل منطق قوم، دھمکیوں اور سفارتکاری کو اکھٹے ہرگز قبول نہیں کرتی۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ملت ایران صرف ترقی کی خواہاں ہے اور عام  تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں چاہتی اسی لئے اس نےہمیشہ این پی ٹی معاہدے کے دائرہ کار میں قدم اٹھایا ہے اور اس پر کاربند ہے۔

ڈاکٹر سید حسن روحانی نے آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کا دوبارہ جائزہ لئےجانے کی ضرورت پرتاکید کی اور کہا کہ انقلاب کے دشمن یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ ایک ڈکٹیٹر کو اکسا کر اور اس کی مالی اور فوجی حمایت کرکے ایک عظیم دینی اور عوامی انقلاب کو تباہ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب کے دشمنوں نےصدام کی حکومت کو جو سیاسی، انٹلجنس اور مالی امداد منجملہ کیمیاوی ہتھیار دئیے تھے وہ نہ صرف ملت ایران کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور نہ کرسکے بلکہ دشمن ہماری ایک بالشت زمین پر بھی قبضہ باقی نہ رکھ سکا۔

صدر جناب حسن روحانی نے تاکید کی کہ گرچہ مسلط کردہ جنگ سے ایران اور عراق کو بے پناہ مالی نقصان ہوا ہے لیکن اسلامی انقلاب کے دشمن اس طرح سے بھی اسلامی انقلاب کو منحرف کرنے کے مذموم اھداف تک نہيں پہنچ سکے۔

صدر جناب حسن روحانی نے کہا کہ ایران نے گذشتہ دو سو برسوں میں کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کیا ہے اور ایرانی قوم کبھی بھی جارحانہ عزائم اور استعماری اہداف کی حامل نہیں رہی ہے لیکن ہم ایک لمحہ بھی دشمنوں کے مقابل خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ہمیشہ اپنی آزادی، عزت و شرف اور ارضی سالمیت کا بھر پور دفاع کریں گے۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بعض ملکوں کی جانب سے دہشتگردوں کی مالی اور فوجی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے مسلط کردہ جنگ کے دوران صدام کی حمایت کر کے دشمنان انقلاب کو کوئي نتیجہ حاصل نہیں ہوا تھا اسی طرح سے علاقے میں آج دہشتگردوں کی حمایت کرنے والوں کو خطرناک نتائج کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

انہوں نے ایران کی مسلح افواج کو علاقے میں امن و استحکام کا سبب قراردیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے دعوے کے برخلاف جو ایران کو ہمسایہ اور دیگر ملکوں کے لئے خطرہ قررا دے رہے تھے، وہ حکومت یعنی غاصب اسرائیل، علاقے کے لئے خطرہ ہے جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہيں اور جو عالمی قوانین کی بھرپور مخالفت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے خلاف ہے اور جنگ پسندوں کو یہ نصیحت کرتا ہے کہ علاقے میں ایک اور جنگ چھیڑ نے کی کوشش نہ کریں کیونکہ انہیں اس کے نتائج سے پشیمانی کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہوگا۔ صدر جناب حسن  روحانی نے علاقے منجملہ شام کے حالات کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ مسائل کو جنگ سے حل نہیں کیا جاسکتا اور بحرانوں کا واحد راہ حل تعاون اور ملکوں کا ہماھنگی کے ساتھ مل جل کرکام کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب کو مل کر شام کے حلاف جنگ کا سد باب اور شام کے عوام کے مطالبات کے مطابق مذاکرات منعقد کرانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے مسلح افواج ڈیٹیرینٹ طاقت کی حامل ہیں لیکن اسی کے ساتھ ساتھ وہ عشق وطن سے سرشار، ہوشیاری اور عالمی مسائل سے آگاہ نیز جدید ترین سازوسامان سے لیس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج اپنی قوم کا دفاع کرنے کے لئے ہمہ تن آمادہ ہیں جو انہیں اپنا ہی حصہ سمجھتی ہے اور تمام مشکلات و مسائل کے باوجود ولی فقیہ کی ھدایات کے زیر سایہ اسلامی انقلاب کے مستقبل کو تابناک دیکھ رہی ہے۔ .......

/169