ابنا: یورپ میں سعودی عرب کی انٹیلیجنس کے سربراہ بندر بن سلطان کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہونے اورالقاعدہ کے دہشت گردوں کی حمایت اور ہمراہی کرنے کے خلاف قانونی اقدامات کا آغاز ہوگیا ہے۔دنیائے واحد تحقیقاتی سینٹر نے اپنے تمام حقوقی مشیروں سے کہا ہے کہ وہ بندر بن سلطان کے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے بارے میں شواہد جمع کریں تاکہ سعودی بندر کے خلاف جنگی جرائم کی عدالت میں مقدمہ قائم کیا جاسکے ۔عرب ذرائع ابلاغ کی ممتاز شخصیت نزال قبلان کا کہنا ہے کہ سعودی بند بہت سے جنگی جرائم میں ملوث ہے اور اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے پیچھے بندر بن سلطان کا ہاتھ نمایاں ہے دنیائے واحد سینٹر نے اپنے مشیروں سے کہا کہ کہ وہ سعودی عرب کے بندر بن سلطان کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ قائم کریں کیونکہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہے اور دہشت گردوں کو ممنوعہ ہتھیار فراہم کررہا ہے۔...../169
10 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 462023
عرب ذرائع کے مطابق یورپ میں سعودی عرب کی انٹیلیجنس کے سربراہ بندر بن سلطان کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہونے اورالقاعدہ کے دہشت گردوں کی حمایت اور ہمراہی کرنے کے خلاف قانونی اقدامات کا آغاز ہوگیا ہے۔