اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ابوالفتنہ، شام اور عراق میں تکفیری دہشت گردوں کا چیف کمانڈر، عرب ممالک کی افواج کو تباہ کرنے کے مشن پر کاربند اور صہیونی غاصبوں کا سب سے بڑا نجات دہندہ، وہ لقاب ہیں جو اس شخص کو دیئے جاسکتے ہیں۔ اس نے کئی بار خود بھی اعتراف کیا ہے کہ افغانستان سے لے کر قفقاز اور عراق و لبنان اور شام میں تکفیری دہشت گرد ٹولوں کی نکیل اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ انہیں مفت کے ڈالروں کے ذریعے کسی بھی ملک کی تباہی کے لئے میدان جنگ میں اتار سکتا ہے لیکن اب امریکہ شام پر حملے کے منصوبے سے پسپا ہونے لگا ہے تو واضح سی بات ہے کہ علاقے اور دنیا کو حیرت و اضطراب سے دوچار کرنے والے اس منظرنامے میں ولن کا کردار اس شخص کو دیا گیا ہے اور تاریخ اس شخص کو سب سے بڑا ہارنے والے اور شکست کھانے والے شخص کے عنوان سے اپنے صفحات پر ثبت کرے گی۔ بندر بن سلطان کا نام خطے کے نہایت پیچیدہ سیکورٹی کیسز میں نمایاں ہے؛ یہ سعودی کنیز زادہ ـ جس کو اپنے دوسرے کنیز زادہ بھائیوں اور چچا زاد بھائیوں کی نسبت آل سعود کی حکومت میں نشو ونما ملی ہے اور جانتا ہے کہ اسی (کنیز زادہ ہونے کی) بنا پر وہ کسی صورت میں بادشاہ نہیں بن سکے گا ـ اپنے اہداف کو خطے کے عوام کے قتل اور انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے ذریعے حاصل کرنے کا قائل ہے چنانچہ اس نے ایک بار پھر اس مجروح خطے کو جنگ میں جھونکنے کی کوشش کی لیکن اس بار وہ ناکام رہا۔ بندر بن سلطان نے حال ہی میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ بات چیت کے دوران ضمنی طور پر کہا تھا کہ قفقاز کے علاقے می دہشت گردوں کا کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہے اور اگر روس سعودی عرب کی بات مانے اور شام کا ساتھ چھوڑ دے تو وہ سوچی کے علاقے میں آنے والے ونٹر اولیمپکس پر چیچن دہشت گردوں کے حملے نہ ہونے کی ضمانت دینے کے لئے تیار ہے۔ بندر بن سلطان نے امریکہ اور فرانس پر بھی دباؤ بڑھایا تاکہ وہ حملہ کرکے شام میں وہ کچھ کردیں جو تکفیری دہشت گرد گذشتہ ڈھائی برسوں کے دوران نہیں کرسکے ہیں۔ روس اور ایران نے شام کو ایک دانشمندانہ تجویز پیش کی اور کہا کہ وہ شام کے کیمیاوی ہتھیاروں پر روس کی نگرانی قبول کرے اور شام نے اس پیشکش کا خیر مقدم کیا اور یوں بندر بن سلطان اور اسرائیل کی یہ سازش ناکام ہوگئی جس کے تحت امریکہ کو شام پر حملہ کرنے پر آمادہ کیا گیا تھا۔ اور اب شام کی مسلح افواج زیادہ تیز رفتاری سے بندر بن سلطان کے زیر سرپرستی فعال تکفیری دہشت گردوں کا صفایا کریں گی اور جو کچھ آل سعود کے نصیب ہوگا دہشت گردوں کے ساتھ تعاون اور صہیونیوں کی بےلوث خدمت نیز عراق کے بعد شام اور حتی مصر کی تباہی کی سازشوں میں ملوث ہونے سے حاصل ہونے والی بدنامی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ لگتا ہے کہ شام میں نہایت شدید شکست اور بدنامی کے بعد اب بندر بن سلطان کو لبنان، عراق اور مصر میں بھی ناکامی کے تلخ منصوبوں میں ناکامی کا مزہ چکھنے کا انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ اطلاعات کے مطابق عراقیوں نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ عراق میں سعودی مداخلت کی وجہ سے ہونے والی دہشت گردی اور بدامنی کو مزید برداشت نہیں کریں گے اور عنقریب سعودی فتنہ سعودیوں کو لوٹا دیا جائے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
9 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 461477
اگر امریکہ شام پر حملہ نہ کرے تو سب سے بڑی شکست اس شخص کو ہوگی جس نے اس حملے کے لئے سب سے زیادہ کوششیں کیں، تکفیری دہشت گردوں کو اربوں ڈالر کا ہتھیار خرید کر دیا اور اس مسئلے پر اپنی موت یا حیات کی شرط لگادی لیکن حالات اس کی پسند کے مطابق آگے نہ بڑھے۔