8 ستمبر 2013 - 19:30
غربی،عربی اور عبری تکون مشرق وسطی میں جنگ کو آخری نبرد سمجھتے ہیں

حوزہ علمیہ جامعہ العروۃ الوثقی میں علامہ سید جواد نقوی نےحالات حاضرہ کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام میں جو نبرد جاری ہے اس کی اہمیت کا اندازہ آپ یہاں سے بھی لگا سکتے ہیں کہ تمام دنیا کی توجہ اس نے اپنی طرف کھینچ لی ہے۔

ابنا: حوزہ علمیہ جامعہ العروۃ الوثقی میں علامہ سید جواد نقوی نےحالات حاضرہ کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام میں جو نبرد جاری ہے اس کی اہمیت کا اندازہ آپ یہاں سے بھی لگا سکتے ہیں کہ تمام دنیا کی توجہ اس نے اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ اس جنگ میں دو فریق ہیں جو آپس میں برسر پیکار ہیں ایک فریق غربی، عربی اور عبری مثلث ہے اور دوسرا فریق ایران و حزب اﷲ، روس اور چین ہے ۔ اس جنگ کو غربی، عربی اور عبری تکون آخری نبرد سمجھتی ہے ۔عالمی حکومت کے قیام کی راہ میں یہ فیصلہ کن جنگ ہے اسی لئے انہوں نے اپنی تمام طاقت اسی جنگ میں لگا دی ہے کہ یہ آخری نبرد ہے اور بالخصو ص مسیحی صہیو نزم کے نزدیک کہ یہ جنگ آخری نبرد ہے ۔دوسری جانب جو فریق ہے اس کے نزدیک یہ جنگ غیر معمولی اہمیت کی حامل ضرور ہے لیکن آخری نبرد نہیں ہے۔
علامہ سید جواد نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ایک تجزیے میں عرض کیا تھا کہ اب جو جنگ ہو گی وہ ایران اور سعودیہ عرب کے درمیان ہو گی اس وقت وہ ہی جنگ سوریہ کے اندر شروع ہے اگرچہ اس جنگ کے مکمل دونوں فریق نہیں ہیں لیکن دونوں فریقوں میں سے ایک حصہ ہیں اور اس جنگ میں ایک اہم رول سعودی عرب کا ہے اور دوسرے فریق میں ایک اہم رول ایران کاہے۔ سعودیہ عرب شام میں تکفیری گروہوں کی بھرپور امداد کر رہا ہے اور پوری طرح اس جنگ میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی مفادات سوریہ کی جنگ میں یہ ہیں کہ امریکہ دنیا کا مطلق العنان بادشاہ بنے اس بادشاہت میں کوئی اس کے مد مقابل نہ ہو کوئی اس کا حریف نہ ہو بے رقیب۔
علامہ سید جواد نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس کے مفادات سوریہ کی جنگ میں یہ ہیں کہ امریکہ مطلق العنان بادشاہ نہ بنے اگر سوریہ کی جنگ میں امریکہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ مساوی ہو گا امریکہ کی مطلق العنان بادشاہت کے ۔اور اس طرح روس بے حیثیت ہو جائے گا۔ روس اس لیے اس کو اجازت نہیں دیتا۔مطلق العنان بادشاہت کا مطلب یہ کے یورپی یونین کچھ بھی نہیں ہے  اسی لئے وہ اس جنگ کی حمایت نہیں کر رہے، جی ٹونٹی ممالک کے اجلاس میں بھی سوریہ حملے پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کا مفاد اس جنگ میں یہ ہے کہ انقلاب اسلامی شکست کھاتا ہے ایران کی رکاوٹ راستے سے ہٹتی ہے شیعہ آئیڈلوجی محو ہوتی ہے سوریہ کے میدان جنگ میں سعودی عرب اس جنگ میں اپنی پوری ہستی داؤ پر لگا رہا ہے۔
علامہ سید جواد نے کہا کہ ایران و حزب ﷲ کے سامنے اپنا ایک ہدف اور آئیڈلوجی ہے اور اس لئے وہ اس جنگ میں وارد ہیں اس کے علاوہ ان کے سیاسی و اقتصادی مفادات نہیں ہیں ۔سوریا کا ایران و حزب اﷲ کے ہاتھ سے نکل جانا مترادف ہے کہ یہ آئیڈلوجی متوقف ہو جائے گی ،عالمی نظام کی طرف اٹھنے والا قدم رک جائے گا اسی وجہ سے یہ جنگ بہت حیاتی ہے ان کے لئے۔
علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ یہ جنگ فقط سوریہ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہے بتیس ہزار کنٹیرز کا اسلحہ پاکستان میں تقسیم ہونا اسی پلان کا حصہ ہے ایک بہت بڑا حصہ اس جنگ کا عراق میں لڑا جا رہا ہے جہاں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ ہو رہی ہے۔ رہبر معظم نے بھی عراق میں بزرگ علماء کو کہا ہے کہ بیدار ہوں ہوش مندی کا ثبوت دیں عراق میں دیر ہو رہی ہے آپ کو۔ عراق اس وقت بہت خطرناک حالت میں جا پہنچا ہے روزانہ دس خودکش حملے ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں بھی دشمن کے حربے کو ناکام کرنے کے لئے آمادگی کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲