3 ستمبر 2013 - 19:30
اوباما شام فوج بھیج کر وہاں کی خانہ جنگی میں الجھنا نہیں چاہتے: جان کیری

واشنگٹن…امریکی وزیر دفاع کہتے ہیں کہ سعودی عرب، ترکی اور فرانس سمیت کئی ممالک شام پر امریکی حملے کے حامی ہیں۔ وزیرخارجہ جان کیری کاکہناہے کہ دمشق کیخلاف کارروائی نہ کی تو ایران اور شمالی کوریا کو غلط پیغام جائے گا۔

ابنا: واشنگٹن میں شام کی صورت حال پر غور کیلئے سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں وزیر خارجہ جان کیری اور وزیر دفاع چک ہیگل نے ارکان کوبریفنگ دی۔ جان کیری کاکہناتھا کہ اگرامریکا شام کیخلاف فوجی کارروائی کرنے میں ناکام رہا تو ایران، حزب اللہ اور امریکاکے دیگر دشمنوں کو خطرناک پیغام ملے گا یا کم ازکم وہ امریکی عزائم کاغلط مطلب نکال سکتے ہیں۔

انھوں نے واضح کیاکہ صدراوباما کاایساکوئی ارادہ نہیں کہ امریکی بری فوج شام میں داخل ہوکروہاں کی خانہ جنگی میں الجھے۔ انھوں نے کانگریس سے بشارالاسدکی کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت کوکم کرنے اوراس کے استعمال سے بازرکھنے کااختیارمانگاہے۔ امریکی وزیرخارجہ کی تقریرکے دوران مظاہرین نے ہنگامہ آرائی بھی کی، ان کاکہناتھاکہ امریکاکونئی جنگ شروع نہیں کرنی چاہیے۔

اجلاس کوبریفنگ میں چیرمین آف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمسی نے بھی جان کیری کی تائیدکرتے ہوئے کہاکہ شام پرحملہ حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ بشارالاسد کی کیمیاوی حملوں کی صلاحیت کوگھٹاناہوگا۔ وزیردفاع چک ہیگل نے دعویٰ کیاکہ فرانس، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی اتحادی ممالک شام کیخلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی حمایت کیلئے تیارہیں۔

دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک پیوریسرچ سینٹرکی جانب سے کرائے گئے سروے میں اڑتالیس فیصد امریکیوں نے شام پرفضائی حملے کی مخالفت کی ہے جبکہ انتیس فیصد افرادنے حمایت کی۔ ایک امریکی ٹی وی کے سروے میں دس میں سے چھ امریکیوں نے میزائل حملوں کی مخالفت کی ہے۔

.......

/169