28 اگست 2013 - 19:30
وزیر خارجہ: شام کے بحران کے بارے میں دس ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ٹيلي فوني گفتگو

اسلامي جمہوريہ ايران کے وزير خارجہ نے دس ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ٹيلي فوني گفتگو ميں شام کے بحران پر تبادلہ خيال کيا ۔

ابنا: ايران کے وزير خارجہ محمد جواد ظريف نے اردن، کويت، اٹلي، سوئزرلينڈ، بلجيم، اسپين، يونان، فرانس، جمہوريہ آذربائجان اور الجزائر کے وزرائے خارجہ سے ٹيلي فوني گفتگو ميں کيميائي ہتھياروں کے استعمال کي خواہ وہ کسي کے ذريعے ہو مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران سے زيادہ کسي بھي ملک کے خلاف کيميائي ہتھياروں کا استعمال نہيں ہوا اس لئے ہم اس قسم کے ہتھياروں کے استعمال کي مذمت کرتے ہيں اور اس بات کا مطالبہ کرتے ہيں کہ اقوام متحدہ کي ٹيم کي رپورٹ سے پہلےکوئي پيشگي رائے قائم نہ کي جائے ۔وزير خارجہ جواد ظريف نے کہاکہ شام کي حکومت نے ايران کے کہنے پر اپنے ملک ميں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کي ٹيم کو آنے کي اجازت دي تھي۔ انہوں نے کسي حتمي نتيجے پر پہنچے بغير عجلت ميں انجام دئے گئے ہرقسم کے اقدام کي بابت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو تحقيقات کے لئے وقت ديا جانا چاہئے ۔ايران کے وزير خارجہ نے کہا کہ دنيا اس وقت ايک اور جنگ کي متحمل نہيں ہوسکتي ۔ انہوں نے کہا کہ اکيسويں صدي ميں جنگ کي باتيں کرنا غير قابل قبول ہے اور اس سے بحران مزيد شدت اختيار کرے گا ۔ ديگر ملکوں کے وزرائےخارجہ نے بھي شام کے بحران پر اپنے موقف کا ذکر کياجبکہ اٹلي اور سوئزرلينڈ کے وزرائے خارجہ نے شام پر مغربي ملکوں کے ممنکہ حملوں کي کھل کر مخالفت کي ۔

.......

/169