26 اگست 2013 - 19:30
ایران کاایٹمی پروگرام اورقیاس آرائیاں

مغرب کے مد نظر پروپیگنڈہ مہم کے اہداف کےلئے ایران کے ایٹمی مسئلے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں سفارتکاروں نے پیر کےدن کہا تھا کہ ایران کےبارے میں آئی اے ای اے کی نئی رپورٹ میں ایسی اطلاعات موجود ہونے کا امکان ظاہر کیاجارہا ہے جس سے پتہ چلتاہے کہ ایران کاایٹمی پروگرام بخوبی آگے بڑہ رہا ہے اور اس کی یورےنیم افزودگی کی صلاحیتیں بڑھیں ہیں لیکن اس نے حساس ایٹمی ذخائر کو محدود رکھا ہے۔

ابنا: ذرائع کے مطابق اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو اس سے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کی دوپہلو تصویرسامنےآتی ہے۔
کہاجارہا ہے کہ یہ رپورٹ بدہ کےدن ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےبورڈ آف گورنرس کے درمیان تقسیم ہوگی ۔
ایران کایورےنیم کی افزودگی کامقصد، ایٹمی بجلی گھر اور تہران کےمیڈیکل ریسرچ بجلی گھرکاایندھن فراہم کرنا ہے۔
ان قیاس آرائیاں کے درمیان صیہونی حلقوں نے اپنی پروپیگنڈہ مہم تیز کردی ہے ۔
صیہونی حکومت کےاسٹریٹیجک امور کےوزير یووال اشٹاینیٹز نے دعوی کیا ہے کہ ایران ، ایٹمی ہتھیار اورایٹم بم بناناچاہتا ہے۔
صیہونی حکومت کے بعض صحافتی حلقے یہ بھی کہہ رہے ہيں کہ ایران کےساتھ ایٹمی مذاکرات کے لئے ڈیڈلائن ہونا ضروری ہے۔صیہونی اخبارجروزالم پوسٹ نے پیرکو "ایران کے ایٹمی پروگرام کےبارے میں شیڈول کا تعین" کے زیرعنوان لکھا ہے کہ امریکہ ،اسرائیل اور آزاد ماہرین کے درمیان ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے اس بات پر اختلاف نظر پایاجاتا ہے کہ ایران کوایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کےلئےکتنا وقت درکارہے۔لیکن اس وقت امریکہ اور اسرائیل اس بات پربحث اورگفتگوکر رہے ہیں کہ ایران کواپنا راستہ بدلنے کےلئے کتنے مہینوں کی مہلت دی جانی چاہئے۔
ایران کاایٹمی معاملہ ، تقریبا دس برسوں سے اس کےخلاف سیاسی ماحول سازی کامحور بنا ہوا ہے۔ یکطرفہ طور پر پابندیوں میں شدت ، سیاسی دباؤ، فوجی دھمکی، حتی ایٹمی سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور کمپیوٹر وائرس کے ذریعے تخریب کاری وہ جملہ طریقے ہيں جن سےمغرب ایران کوپرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کےحصول سے روکناچاہتاہے لیکن امریکہ اور فرانس سمیت یہی ممالک ایٹمی ہتھیاروں کو اپنےدفاعی اورسیکورٹی ڈاکٹرائن  کاحصہ سمجھتے ہیں اور وہ عام تباہی پھیلانےوالے یہی ہتھیار،صیہونی حکومت کو بھی دے چکے ہيں۔
اسرائیلی حکومت کےپاس اس وقت کم سےکم دوسوایٹمی وار ہیڈس ہيں اوراس طرح وہ مشرق وسطی میں ایٹمی ہتھیاروں کی حامل پہلی حکومت ہے ۔منظرعام پرآنےوالی رپورٹوں کےمطابق دنیا میں بیس ہزار سےزیادہ ایٹمی وارہیڈز ہيں لیکن ان ہتھیاروں کےحامل ممالک انھیں تباہ کرنے کےلئے معمولی قدم بھی اٹھانےکے لئے تیار نہيں ہیں۔گذشتہ سال دسمبر میں نواڈا میں امریکہ کےایٹمی تجربات نےثابت کردیا ہے کہ امریکہ جو ایٹمی ہتھیاراستعمال کرنےوالاواحدملک ہے اورجاپان پرایٹمی حملہ کرچکا ہے اب بھی ایٹمی ہتھیار استعمال کرنےکی فکر میں ہے اور ایٹمی ترک اسلحہ پر بالکل یقین نہيں رکھتا۔امریکہ ، فرانس اوربرطانیہ ان ہتھیاروں کی نئی نسل تیار کرنے کی کوشش کررہے ہيں اور ابھی چند سال پہلے ہی فرانس نےدھمکی دی تھی کہ اگرضرورت ہوئی تو وہ ایٹمی ہتھیاراستعمال کرےگا۔ یہ ممالک جو خود بین الاقوامی معاہدوں کےپابند نہیں ہیں ، ایران پر کہ جو این پی ٹی کا رکن بھی ہے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگارہے ہیں اور صہیونی ریاست جو امریکہ ، فرانس اوربرطانیہ کی براہ راست مدد سے ایٹمی ہتھیاروں تک دسترس حاصل کرچکی ہے اور علاقے اوردنیا کی سیکورٹی کے لئےخطرہ بنی ہوئی ہے، اس کی کھل کرحمایت کررہے ہيں ۔
ان تمام حقائق کےباوجود ، ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کونہ صرف ان مسائل پرکوئی تشویش نہيں ہے بلکہ وہ رکن ممالک کی خفیہ اطلاعات کو لیک کر کے امریکہ کےناجائزمفادات کےحصول کاذریعہ اور اس کےآلہ کار میں تبدیل ہوچکی ہے۔

.......

/169