ابنا: فرانسیسی وزیر خارجہ نے یہ دعوی کیاکہ صہیونی ریاست اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان جولائی کے آخر سے جن مذاکرات کا آغاز ہوا ہے اس کے مثبت نتائج حاصل ہوں گے فایبوس نے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ زیادہ تر شام و لبنان اور مصر کے المناک واقعات اور تنازعے کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے لیکن اسرائيل اور فلسطین کا مسئلہ مرکزیت کاحامل ہے ۔ فابیوس نے مزید کہاکہ ایسی حالت ميں کہ جب علاقے پر، کشیدہ صورتحال حکمفرما ہے ، صلح کی کوشش کی اہمیت کا احساس دوچنداں ہوگيا ہے ۔اگر یہ مذاکرات نتيجہ خیز ثابت ہوتے ہیں تو ان کا علاقائی امن پر مثبت اثر مرتب ہوگا ۔ مغربی حکام ایسے حالات ميں سازباز مذاکرات کے لئے فضا سازگار بنانے میں کوشاں ہیں کہ بنیادی طور پر ان مذاکرات کے نتائج صہیونی ریاست کے حق میں رہے ہیں اور ان سے فلسطینیوں کو منفی نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ صہیونی ریاست کہ جس کی بنیاد مکمل طورپر توسیع پسندی پر استوار ہے مغربی حکومتوں کی طرف سے ساز باز مذاکرات میں وسیع مراعات حاصل کرنے کے باوجود قانع نہیں ہے اور اس نے اپنے گستاخانہ اقدامات کے ذریعے فلسطینیوں کے حقوق ضائع کرکے ان مذاکرات کوتعطل سے دوچار کررکھا ہے ۔ ایسے حالات میں صہیونی ریاست کے فائننس منسٹر "نفتالی بننٹ" نے اسلو معاہدے کے کالعدم ہونے اور صہیونی ریاست کےنقطۂ نظر سے فلسطینی ملک کے قیام کے نظریے کی منسوخی کی خبر دی ہے ۔ نفتالی بننٹ نے اپنے بیان میں کہاکہ میں یقین نہیں کرتا کہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ صہیونی ریاست کے مذاکرات نتیجہ بخش ثابت ہوں گے ۔ نفتالی بننٹ نے امن معاہدے کو ایک المیے سے تعبیر کیا اور کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی ملک کے قیام کے نظریئے کو تسلیم نہيں کرتا۔ صہیونی حکام کے بیانات ، امن کے سلسلے میں انجام پانے والے معاہدوں پر عدم اعتماد کے غماز ہیں ۔ بنیادی طور پر صہیونی ریاست فلسطینوں کے خلاف اپنی پالیسیوں میں شدت لانے اور انہیں فلسطینیوں کو تسلیم کرانے اور مجموعی طور پر فلسطینیوں کے حقوق مکمل طور پر ضائع کرنے کےدرپے ہے ۔ اسی بنیاد پر سازباز مذاکرات کے ساتھ ساتھ ، اقوام عالم ، صہیونی ریاست کی توسیع پسندانہ اور تشدد آمیز پالیسیوں میں شدت کا مشاہدہ کر رہی ہیں اور فلسطینی علاقوں میں صہیونی کالونیوں کی توسیع ، اور حالیہ ہفتوں ميں فلسطینیوں کی وسیع پیمانے پرگرفتاریاں ، اسی تناظرمیں قابل غور ہیں ۔ ایسے حالات میں فلسطینی گروہ ، فلسطینی اتھارٹی کی سازباز کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کررہے ہيں اورمشرق وسطی ميں مذاکرات بند کئے جانے کے خواہاں ہيں ۔فلسطینی انتظامیہ کی سازباز کی پالیسیوں پر نکتہ چینی ، خود اس انتظامیہ کے ڈھانچے ميں شامل بعض گروہوں منجملہ پی ایل اور تحریک فتح نے بھی کی ہے اوراسی سلسلےمیں پی ایل او کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن "تیسیر خالد" نے بھی صہیونی ریاست کے ساتھ ساز باز مذاکرات فورا ختم کرنے کی ضرورت پر تاکید کی ہے ۔
.......
/169