23 اگست 2013 - 19:30
نواز شریف: شریف ہندوستان کے ساتھ صلح پر تیار

ایسے وقت کہ جب ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کشمیر کنٹرول لائن پر دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان ہونے والی فائرنگ سے متائثر ہے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے ایک انٹرویو میں ہندوستان حتی طالبان کے ساتھ صلح کرنے کے ل‍ئے اپنے رجحان کا اظہار کیاہے۔

ابنا: ایسی صورت میں انھوں نے تاکید کی ہے کہ وہ اپنی پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی لانے کا خیال نہیں رکھتے ہیں۔محمد نوازشریف نے ڈیلی  ٹیلیگراف  سے خصوصی انٹرویو میں کہاکہ وہ  گیارہ  مئی کے انتخابات میں اپنی کامیابی کو ہندوستان  کے ساتھ صلح کا حکم  جانتے ہیں ۔ انھوں اپنے پہلی کانفرنس میں تاکید کی ہے کہ اگر ہم سعادت مند ہوناچاہتے ہیں تو ہمیں اس مسئلے کے بارےمیں پیشرفت کرنی چاہئیے ۔ پاکستان کے  وزیر اعظم نے  میں انٹرویومیں کہا ہے کہ مسلم لیگ  نوازپارٹی نے حالیہ  انتخابات میں ہندوستان کے  خلاف کسی قسم کا کوئی دھمکی آمیز نعرہ نہیں لگایا ہے اس لئے کہ اب اس قسم کے نعروں پر یقین اور اعتبار نہیں ہے بلکہ ہم صلح آمیز راستوں  کے ذریعہ دونوں ملکوں کے مابین اہم مسائل منجملہ مسئلہ کشمیر کو آپس میں بیٹھ کرحل کرنا چاہتے ہیں ۔  پاکستانی وزیر اعظم نے ڈیلی ٹیلیگراف کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ہم یہ اطمینان دلائيں کہ ہم راستے پر صحیح چل رہے ہیں اور ہماری پالیسیاں ٹھیک  چل رہی  ہیں اور کوئی غلطی نہیں ہوگی اور اسی سلسلے میں ہندوستان کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ ختم اور مسئلہ کشمیر کے بارے میں دونوں ملکوں کواپنے اختلافات آپس میں بیٹھ کر حل کرلینا  چاہئیے ۔ سیاسی مبصرین کی نظر میں پاکستانی وزیر اعظم کا دہلی نو اور اسلام آباد کے درمیان اختلافات کے حل کی ضرورت اور اس بارے  میں ان کی آمادگی شفاف ترین موقف ہے جوحالیہ برسوں میں تعلقات کے عنوان سے ہندوستان  کے ساتھ ایک پاکستانی قائد کی طرف  سے اختیار کیا گیا ہے جو ہندوستان کے ساتھ پھر سے صلح مذاکرات کے آغازکے لئے ماحول پیدا کرسکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان بھی نواز شریف کے امن پیغام کا مثبت جواب دے ۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مختلف مسائل منجملہ کشمیر کی مالکیت کے بارے میں انتہا اور تشدد پسند گروہوں کی وجہ سے اختلاف پایا جاتا ہے اوراب تک مسئلہ کشمیر کے بارے میں دوبار جنگ ہوچکی ہےنیز 999امیں کرگل کی سرحدی چوٹیوں تک جنگ پھیل گئی تھی ۔ ہندوستان اور پاکستان کے ایٹمی  ہتھیاروں سے لیس ہونے کے  پیش نظر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ نہ صرف دونوں ملکوں کے لئے بلکہ پورے علاقے کے لئے خطرناک ہے ،اس کے علاوہ اس علاقے پر ہندوستان اور پاکستان دونوں کا بجٹ ہتھیاورں کی دوڑ  پر  خرچ ہوتاہے جو نہ صرف دونوں ملکوں کے حق میں بہتر نہیں ہے بلکہ ہتھیاروں کی حفاظت کے بارے میں سنگین اور اس پربڑا بجٹ خرچ ہوچکا ہے ،جس کے نتیجہ میں دہلی نو  اور اسلام  آباد تعلیمی ، خدماتی،غربت کے خاتمہ اور عمرانیات کے پروگراموں پرعمل درآمد نہیں کرسکے ۔  اسی  لئے نواز شریف نےاپنے انٹرویو میں ہندوستان  اور  پاکستان کے درمیان فوجی کشمکش اور جھڑپ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ علاقے میں جاری سرد امن کے ماحول کو ختم کرکے پائیدار امن قائم کیا جاسکے ۔بہرحال کشمیر کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی سے پتہ چلتاہے کہ ہندوستان میں ایسے ہاتھ دکھائی دیتے ہیں جو پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات کی راہ  میں رکاوٹ پیدا ا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ حکومت پاکستان تمام تر کوششوں کو بروئے کار لاکر ہندوستان کے ساتھ تفاہم کا ماحول پیدا کرکے  دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ نیز دونوں ملکوں کی اقتصادی مشکلات کے حل میں مدد کرنے کے لئے ماحول فراہم  کرنا چاہتی  ہے ۔   .......

/169