ابنا: انيس اگست انيس سو ترپن ميں امريکا نے برطانيہ اور معزول شاہ کے ايجنٹوں کي سازش کے ذريعے اس وقت کے وزير اعظم مصدق کي منتخب حکومت کا تختہ الٹ ديا تھا ۔
امريکا نے برطانيہ اور ملک کے اندر شاہي ايجنٹوں کي مدد سے محمد مصدق کي منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر محمد رضا شاہ کو مطلق العنان حکمراں کے طور پر پيش کيا اور يوں شاہ ايران نے پہلےسے بھي زيادہ ايراني عوام پر ظلم وستم کرنا شروع کرديا ۔ اگرچہ اس کے پچيس سال بعد گيارہ فروري انيس اناسي کو ايران کے عوام کے غيظ وغضب کے سيلاب ميں ظالم شاہي حکومت کا محل غرق ہوگيا اور ايک منتخب اسلامي جمہوري نظام قائم ہوگيا ۔واضح رہے کہ انيس اگست انيس سو ترپن کوفضل اللہ زاہدي کي کمان ميں فوج کے دستوں نے محمد مصدق کي حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے وزير اعظم ہاؤس کا رخ کيا اور پھر اس بغاوت کے نتيجے ميں محمد رضا شاہ پہلوي کو جو اس سے پہلے بغاوت کي ناکامي کے بعد روم فرار کرگيا تھا ايک بار پھر تخت سلطنت پر بيٹھا ديا ۔انيس اگست انيس سو ترپن کاکودتا اور مصدق کي قانوني حکومت کي سرنگوني نے جو امريکا اور برطانيہ کي خفيہ ايجنسيوں کے خفيہ منصوبوں کے تحت انجام پائي اس حقيقت کو نماياں کرديا کہ مغرب جو ڈيموکريسي کا دعوي کرتا ہے جب بھي اس کے مفادات کا تقاضا ہوتا ہے وہ جمہوريت اور ڈيموکريسي جيسے اصولوں اور نعروں کو پيروں تلے روند ديتا ہے اور اس راہ ميں وہ غنڈوں اور بدمعاشوں کو بھي کرائے پر لينے ميں دريغ نہيں کرتا ۔جب برطانوي حکومت ايران سے تيل کو قوميائے جانے کا بدلہ عالمي عدالتوں ميں نہ لے سکي تو اس نے امريکا کي مدد سے ايران کی اس وقت کے قانوني وزير اعظم مصدق کي حکومت کو گرانے کي سازش تيار کرلي ۔امريکي جريدے فارن پاليسي نے انيس اگست انيس سو ترپن کے کودتا کي برسي کي مناسبت سے کچھ دستاويزات شائع کي ہيں جن سے يہ ثابت ہوتا ہے کہ امريکا نے مصدق کي حکومت کو گرانے ميں براہ راست کردار ادا کيا تھا ۔ ان دستاويزات کو امريکا کي خفيہ ايجنسي نے چھ عشرے گذر جانے کے بعد عام کي ہيں ۔ان دستاويزات ميں سے کچھ انيس سو اکياسي ميں بھي منظرعام پرآئے تھے ليکن اب تک ان ميں حساس اور اہم دستاويزات بدستور خفيہ اور پوشيدہ تھے ۔مصدق حکومت کے خلاف فوجي بغاوت جس کےنتيجے ميں ان کي حکومت گرگئي تھي، سي آئي اے کي کمان ميں انجام پائي تھي اور امريکي خارجہ پاليسي کے ايک حصے کے طور پر کي گئي تھي ۔سي آئي اے نے ان دستاويزات ميں دعوي کيا ہے کہ امريکا نے اس خوف سے کہ کہيں سابق سويت يونين کا اثر و رسوخ ايران ميں زيادہ نہ بڑھ جائے يہ فوجي بغاوت کرائي تھي جس کانام آژاکس ايکشن رکھا گيا تھا ۔ فارن پاليسي ميگزين کے مطابق آژاکس ايک سازش کا کوڈ ورلڈ تھا جس کے تحت ايران کے اندر سازش پر کام کرتےتھے ۔حاليہ برسوں کے دوران امريکا اور برطانيہ کے بہت سے سابق عہديداروں نے ايران ميں امريکا کي فوجي بغاوت کے بارے ميں بہت سے مقالے اور کتابيں لکھي ہيں اور اس بات کا اعتراف کيا ہے کہ امريکا اور برطانيہ نے اس فوجي کودتا ميں اہم رول ادا کيا تھا ۔ فارن پاليسي لکھتا ہے کہ يہ بات ابھي بھي تشنہ جواب ہے کہ سي آئي اے نے کيوں يہ فيصلہ کيا کہ اتنے عرصے بعد ان خفيہ دستاويزات کو عام کيا جائے جس طرح سے يہ ابھي تک معلوم نہيں ہوسکا کہ يہ دستاويزات ابھي تک کيوں خفيہ رکھےگئےتھے۔
.......
/169