18 اگست 2013 - 19:30
مصری عوام کی حمایت میں مختلف ملکوں میں مظاہرے

مصری عوام کی حمایت میں مختلف ملکوں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

ابنا: مصر کے پڑوس ميں واقع مراکش ميں بھي ہزاروں افراد نے مصری مظاہرين پر فوج کے وسيع حملوں کي مذمت ميں مظاہرے کئے ۔ رباط سے موصولہ خبروں ميں کہا گيا ہے کہ مظاہرين ايسے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر مصري فوج کے حملوں کي مذمت ميں نعرے درج تھے۔ مظاہرين کے ہاتھوں ميں ان حملوں ميں مارے جانے والوں کي تصويريں بھي تھيں ۔مراکش کے مظاہرين اللہ اکبر کےنعرے لگانے کے ساتھ ساتھ مرسي کي حمايت کا اعلان بھی کررہے تھے ۔  مظاہرين نے مراکش کي حکومت سے مطالبہ کيا کہ وہ رباط سے مصري سفير کو نکال باہر کرے ۔ ادھر پاکستان کے مختلف شہروں ميں مصري فوج کے ہاتھوں مظاہرين کے قتل عام کے خلاف احتجاجي مظاہرے کئےگئے ۔پاکستان ميں جماعت اسلامي کے پرچم تلے کئےگئے ان مظاہروں کے دوران لوگوں کا کہنا تھا کہ فوج کے  ہاتھوں مصري عوام کا قتل عام  امريکا کي ايماء پر کيا گيا ہے ۔ اتوار کي رات نماز مغرب کے بعد جماعت اسلامي کي کال پر اسلام آباد،  کراچي اور کئي ديگر بڑے شہروں ميں مصري عوام کي حمايت ميں وسيع مظاہرے کئےگئے ۔ان مظاہروں کے دوران عوام پر مصري فوج کے حملو‎ں اور ہزاروں کي تعداد ميں مصري شہريوں کے قتل عام کي شديد الفاظ ميں مذمت کي گئي ۔ مظاہرين اپنے ہاتھوں ميں مصر کے معزول صدر محمد مرسي کي تصويريں اٹھائے ہوئے تھے ۔  ان کا کہنا تھا کہ اتنا بڑا قتل عام امريکا کے اشارے پر ہي ہوا ہے ۔جماعت اسلامي پاکستان کے امير منورحسن نے اسلام آباد ميں مظاہرين کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصري فوج کے ہاتھوں اخوان المسلمين کے کارکنوں کا قتل عام علاقے ميں امريکا اور اسرائيل کي ريشہ دوانيوں کا نتيجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امريکا اور مغربي ممالک اس وقت علاقے ميں اسلامي تحريکوں پر دباؤ ڈالنے ميں لگے ہوئےہيں اورمسلمانوں کے خلاف آئے دن نت نئي سازشيں کررہے ہيں ۔ جماعت اسلامي پاکستان کے امير نے کہا کہ البتہ اسلامي بيداري کي بدولت امريکا، اسرائيل اور مغربي ملکوں کو اپني سازشوں ميں ناکامي کا منہ ديکھنا پڑے گا ۔دوسری جانب مصر سے اطلاعات ہيں کہ اخوان المسلمين نے اتوار کو اپني ملين مارچ کي کال واپس لے لي تھي ۔ اخوان المسلمين نے اپنے بيان ميں کہا کہ اتوار کي شام  ہونے والے ملين مارچ کو سيکورٹي خدشات کے پيش نظر ملتوي کيا جاتا ہے ۔ اخوان المسلمين نے اپنے بيان ميں کہا کہ ايسا اس لئے کيا گيا ہے تاکہ مزيد خون بہنے سے بچا جاسکے ۔بیان میں کہا گيا تھا مظاہرے کے مقام پر فوج کے اسنائپرکے موجود ہونے کی خبروں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے مصري فوج کے سربراہ عبدالفتاح السيسي  نے کہا تھا کہ ہم کسي بھي صورت ميں تشدد اور مظاہروں کو برداشت نہيں کريں گے اور ان کا پوري قوت کے ساتھ مقابلہ کريں گے۔

.......

/169