14 اگست 2013 - 19:30
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی

امریکہ اور اسرائيل کا مشترکہ ہدف کام کی تقسیم ہے۔ اس طرح ایران کے خلاف فوجی حملے کی دھمکی کے آپشن کے ذریعے عالمی برادری کو ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ اقتصادی اور سیاسی پابندیاں لگانے اور اس پر مزید دباؤ بڑھانے کے لۓ آمادہ کرنا ہے۔

ساز باز مذاکرات کے از سر نو آغاز کے ساتھ ہی مشرق وسطی میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے اقدامات کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوگيا ہے۔ دریں اثناء خبری ذرائع نے امریکہ کے چیئر مین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈمپسی کے دورۂ مقبوضہ فلسطین کی خبر دی ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل ڈمپسی کے اس دورے کا مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام اور شام کے مسئلے سے متعلق اسرائیلی حکام کے موقف سے آگاہ ہونا ہے۔بعض مبصرین کہتے ہیں کہ جنرل ڈمپسی کو اس آگ کے بجھانے کی ذمےداری سونپی گئي ہے جو حالیہ ہفتوں کے دوران اسرائيلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے بیانات کے ذریعے لگائي ہے۔ نیتن یاہو نے اپنی روائتی لفاظی میں کہا ہے کہ اسرائيل بقول ان کے ایران کو ایٹم بم کی تیاری سے روکنے کے لۓ کسی بھی آپشن سے گریز نہیں کرے گا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کے سیاسی حلقوں کے نزدیک نیتن یاہو کے بیانات اسرائیل کے موقف میں تبدیلی کی علامت ہیں۔ مطلب یہ کہ ان کے نزدیک اسرائیل ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس لۓ امریکی حکومت نے ڈمپسی کو اسرائیل بھیجا ہے تاکہ اسرائيل کے موقف سے آگاہ ہوا جاسکے۔ لیکن سیاسی اور فوجی تجزیۓ اس طرح کی حماقت پر تشویش کے عکاس ہیں۔ اور ایران کے خلاف اسرائیل کی ہر طرح کی جارحیت اس کی اپنی خود کشی کے مترادف ہے۔ اور امریکہ کی تشویش شائد اسی پہلو سے قابل فہم ہے۔البتہ اس سلسلے میں ایک اور زاویۂ نگاہ بھی ہے۔ اس زاویہ نگاہ کے مطابق امریکہ اور اسرائيل کا مشترکہ ہدف کام کی تقسیم ہے۔ اس طرح ایران کے خلاف فوجی حملے کی دھمکی کے آپشن کے ذریعے عالمی برادری کو ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ اقتصادی اور سیاسی پابندیاں لگانے اور اس پر مزید دباؤ بڑھانے کے لۓ آمادہ کرنا ہے۔بہرحال اس طرح کی خبروں کے ذریعے وہ دوسرے مقاصد بھی حاصل کرنے کے لۓ کوشاں ہیں۔ جن میں فلسطینی گروہوں کو فریب دینے سے متعلق اسرائيلی  اقدامات پر پردہ ڈالنا، سازباز مذاکرات کو امریکی اسرائیلی طریقے سے آگے بڑھانا اور شام کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی مشترکہ سازش سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانا ہے۔ اور یہ دونوں مقاصد امریکہ اور اسرائیل کے لۓ بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ کوئي تعجب کی بات نہیں ہے کہ مشرق وسطی میں ناجائز طور پر وجود میں آنے والی اور ایٹمی ہتھیار رکھنے والی واحد حکومت یعنی اسرائيل کے ساتھ امریکہ ایران کے ایٹمی معاملے کے بارے میں مشورہ کرتا ہے۔ اور امریکہ کے اس رویۓ سے ایران کے ایٹمی معاملے سے متعلق اس کی تشویش کی قلعی بھی کھل جاتی ہے۔ امریکہ نے برسہا برس سے اسرائیل کے مظالم اور اس حکومت کے ایٹمی گوداموں کی وجہ سے عالمی برادری کو لاحق تشویش پر خاموشی سادھ رکھی ہے لیکن وہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں بے بنیاد الزامات لگا کر اس جارح حکومت کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہی امور کے پیش نظر بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ ایران میں نئے صدر کے دور کے آغاز کے موقع پر امریکہ نے ایران کے ساتھ باہمی تعاون پر اپنی آمادگي کا جو اظہار کیا ہے اگر اس کے بارے میں حسن ظن سے کام لیا جائے تو اسرائیل کے موقف میں آنے والی اس تبدیلی سے اسے امریکہ کی بعض حمایتوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا کیونکہ اسرائيل اسی بہانے سے تاوان لینے کی اپنی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔بہرحال یہ بات مسلم ہے کہ امریکہ میں صیہونی لابی سے متاثر سیاسی گروہ اپنے نامعقول اقدامات کو اسرائیل کے انتہاپسندانہ اقدامات کی روک تھام کے سناریو کے ذریعے جائز ظاہر کرنے کے لیۓ کوشاں ہیں۔ مثلا  وائٹ ہاؤس کے حالیہ بیان میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے رجحان کا اظہار کیا گيا ہے بشرطیکہ ایران عالمی معاہدوں پرعمل کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اسرائیل کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہے۔امریکہ کے نزدیک ایران کو ایسے راستے پر چلنا چاہۓ جس سے اسرائیل کے مطالبات پورے ہوتے ہوں۔ ایران میں نئے صدر کی جانب سے یہ عہدہ سنبھالے جانے کے بعد امریکہ کے ایوان نمائندگان نے جو بیان جاری کۓ ان میں پابندیوں اور دھمکیوں کی بات کی گئی ہے اور یہ چيز بجائے خود ایران کے خلاف واشنگٹن اور تل ابیب کے گٹھ جوڑ کی عکاسی کرتی ہے۔ ان تمام امور سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ اورصیہونی حکومت کا مشترکہ مقصد ایران کےخلاف پابندیاں لگانا اور اسے دھمکیاں دینا ہے اور ڈمپسی کے دورۂ مقبوضہ فلسطین اور ایران کے ایٹمی معاملے کے بارے میں مشاورت کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جانا چاہۓ۔   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲