4 اگست 2013 - 19:30

ایران کی تشخیص مصلحت کونسل کے سربراہ نے امریکہ کے دوہرے رویے پر تنقید کی ہے۔

ابنا: آیۃ اللہ ہاشمي رفسنجاني نے یورپی یونین خارجہ امور کے سابق سربراہ خاوير سولانا سے ملاقات میں کہا کہ یہ درست ہے کہ تعلقات مذاکرات سے شروع ہوتے ہیں لیکن امریکی حکومت اور پارلیمنٹ کا دوہرا رویہ ہٹ دھرمانہ ہے اور اسے ایرانی لوگوں کے درمیان اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔انہوں نے تمام مسائل کے سلسلے میں منطق و عقل سے کام لیئے جانے کو تمام مسائل کے حل کی کلید قرار دیا اور زور دے کر کہا کہ پابندی اور دھمکی، ہمیشہ مذاکرات کو متاثر کرتی ہیں اور مسائل کو دور کرنے کے لئے پرسکون اور خوشگوار ماحول میں بات چیت ہونی چاہیئے ۔ایران کی تشخیص مصلحت کونسل کے سربراہ نے سیاسی دنیا میں نظریات کو شفاف طریقے سے بیان کرنے کو اہم قرار دیا اور کہا کہ ڈاکٹر حسن روحانی کی حلف برداری کی تقریب میں غیر ملکی مہمانوں کی موجودگی، نئے راستے کا ابتدائی نقطہ ہے اور یقین کو اور بہتر بنانے کے لئے کوشش کرنا چاہیے۔خاوير سولانا نے بھی اس ملاقات میں امید ظاہر کی ہے کہ مغرب اور امریکہ، ایرانی عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے مربوط طریقے سے کام کریں گے۔انہوں نے ایران کے انتخابات کے نتائج کو مغرب کے لئے معنی خیز قرار دیا اور کہا کہ یہ ایرانیوں کا حق ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ لین دین کرتے ہوئے اپنے تاریخی اور ثقافتی مقام حاصل کر لیں۔

........

/169