23 جولائی 2013 - 19:30
نواسی رسول کے روضے پر حملے کے خلاف پاکستان میں شدید احتجاج

پاکستان میں نواسی رسول خدا کربلا کی شیر دل خاتون حضرت زینب (س) کے روضے مبارک پر تکفیری وہابیوں کی جانب سے ہونے والے حملے کی مذمت کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اسی سلسلے میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔

ابنا: پاکستان ... کراچی میں مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے شاہ خراساں سے سی بریز پلازہ تک احتجاجی مارچ کیا گیا جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ مقررین نے شام میں حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے روضے پر حملے کی شدید مذمت کی۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ریلی نکالی گئی۔ شرکاء نے حکومت سے معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ ریلی کے شرکاء نے وزارت خارجہ میں ایک یادداشت پیش کی اور ریڈیو چوک پر دھرنا بھی دیا۔ اسی طرح کْے احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کی خبریں پاکستان کے دیگر شہروں بھی موصول ہوئی ہیں۔مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے لاہور میں مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ اسلام دشمن قوتیں مقدس مقامات کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہی ہیں۔ کوئٹہ میں علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن میں خواتین اور مذہبی تنظیموں کے کارکنوں نے حملے کے خلاف مظاہرے کئے۔ پاکستان کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرے کئے گئے۔ فیصل آباد میں جماعت اہلسنت کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا اور ریلی نکالی گئی۔ ملتان میں شیعہ علما کانفرنس کی جانب سے نواں شہر چوک پر احتجاج کیا گیا۔ ڈیرہ غازیخان میں مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے ریلی نکالی گئی۔ بھکر میں بھی مجلس وحدت مسلمین اور دیگر شیعہ تنظیموں نے احتجاج کیا۔ منڈی بہاءالدین میں شیعہ تنظیموں نے ریلی نکالی اور پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا۔  سندھ کے شہر محراب پور میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ لودھی چوک پر شرکاء نے دھر نا دیا۔ نواب شاہ کے علاقے دوڑ میں بھی ریلی نکالی گئی۔  ٹنڈو الہ یار میں بھی شیعہ علماء کونسل کی جانب سے بھی مظاہرہ کیا گیا۔ ٹھٹھہ میں بھی ریلی نکالی گئی۔ شرکاء نے قومی شاہراہ پر دھرنا بھی دیا۔اسی طرح کا ایک مظاہرہ کشمیر کے ضلع باغ میں بھی کیا گیا۔درایں اثنا امیر جماعت اسلامی سندھ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی کا کہنا ہے کہ بی بی زینب کے مزار پر حملہ اسلام دشمنوں کی سازش ہے۔ اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی کاکہنا تھا کہ سامراجی قوتیں اسلام و مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور مسلمانوں کے اندر انتشار پیداکر کے امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ مقدس مقامات کی حفاظت اور اتحاد امت کو قائم کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے شام کے شہر دمشق میں حضرت بی بی سیدہ زینب ﴿س﴾ کے روضہ مقدس پر راکٹ حملوں، کشمیر میں قرآن پاک کی بے حرمتی اور عراق میں مسجد میں دھماکوں کے واقعات کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لادین قوتیں اسلام، شعائر اسلام اور مقدس مقامات، مساجد اور مزارات کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کے ایمانی جذبات کو مجروح کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن، محبت، اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے جو ہر ایک کے حقوق کا محافظ ہے مگر تنگ نظر، اسلام کی حقانیت کے منکرین، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرکے اسلام اور مسلمانوں کو مذہبی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام عالم مذہبی دہشت گردی اور اسلام دشمنی کا نوٹس لے ورنہ مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا۔صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ مسلم سربراہ مملکت بیدار ہوں اور اپنی عظمت رفتہ کو پہچانیں کیونکہ بزدل مسلم حکمرانوں کی وجہ سے آج دنیا بھر میں مسلمان ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ مساجد اور امام بارگاہوں میں بم دھماکوں کے ذریعہ فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مساجد اور مزارات مقدس پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم امہ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں کفر کی طاغوتی قوتوں کے ہاتھوں مذہبی دہشت گردی کا شکار ہے مگر افسوس مسلم حکمراں خواب خرگوش کی نیند سو رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رمضان المبارک کے مقدس ایام میں کشمیر میں قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے اور حضرت بی بی سیدہ زینب ﴿س﴾ کے مزار پر راکٹ حملہ کرنے والوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

.....

/169