23 جولائی 2013 - 19:30
شام کي جنگ سے سب ‎سے زيادہ بچے متاثر ہورہے ہيں

شام ميں جاري خوني جھڑپوں کے نتيجے ميں جہاں بھاري مالي اور جاني نقصان ہوا ہے اور ہزاروں لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہيں وہيں اس ملک کے بچے سب سے زيادہ متاثر ہوئے ہيں- بچوں کے امور ميں اقوام متحدہ کے خصوصي نمائندے نے شامي بچوں کي صورتحال کو انتہائي تشويشناک قرار ديا ہے-

ابنا: بچوں کے امور ميں اقوام متحدہ کي خصوصي ايلچي ليلا زروقي نے کہا ہے کہ شام کي صورتحال روز بروز بد سے بدتر ہوتي جارہي ہے اور اس ملک ميں بے گھر ہونے والے لوگوں ميں بچوں کا  تناسب پچاس في صد کے برابر ہے جنہيں سب سے زيادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے-اس سے قبل بھي  اقوام متحدہ نے شام پر مسلط کي گئي جنگ کے نتائج کے بارے ميں خبر دار کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کيا تھا کہ بے گھر ہونے والے شامي بچوں کے لئے تعليمي سہولتوں کے فقدان کي وجہ سے يہ بچے عملي طور پر  تعليم سے محروم ہوگئے ہيں-بچوں کے امور ميں اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل کي خصوصي ايلچي نے اپنے بيان ميں اس افسوسناک صورتحال کي جانب بھي اشارہ کيا ہے کہ شام مخالف مسلح گروہ اور باغي دستے ، بچوں کو جنگ ميں استعمال کر رہے ہيں-يہ غير انساني کام ايسے وقت ميں انجام پارہا ہے جب اقوام متحدہ پوري صراحت کے ساتھ اعلان کرچکي ہے کہ مسلح گروہوں کي جانب سے بچوں کو بطور جنگجو بھرتي کيا جانا ہرگز قابل قبول نہيں ہے-عالمي ادارہ صحت کي نمائندہ الزبتھ ہوف نے بھي اپنے بيان ميں کہا ہے کہ آنودہ پاني کے استعمال کي وجہ سے شام کے مختلف علاقوں اور شام ترکي سرحد پر  ٹائي فائيڈ اور ہيپاٹائٹس جيسي موذي بيمارياں بڑي تيزي کے ساتھ پھیل رہي ہيں جو دوسرے طبقات کے  مقابلے ميں بچوں کو سب سے زيادہ نشانہ بنارہي ہيں-انہوں نے کہا کہ شام کے مختلف علاقوں ميں اب تک ٹائي فائيڈ کے آٹھ ہزار جبکہ ہيپاٹائٹس کے پچيس ہزار کيس سامنے آچکے ہيں-بچوں کي يہ افسوسناک صورتحال صرف شام کے اندر بے گھر ہونے والے خاندانوں تک محدود نہيں ہے بلکہ  شام کے باہر قائم پناہگزين کيمپوں ميں رہنے والے بچے بھي اسي صورتحال سے دوچار ہيں- کيونکہ  بے گھر ہونے والے چار ملين شاميوں کي آدھي تعداد بچوں پر مشتمل ہے لہذا يہ بات فطري ہے کہ جنگ اور در بدري کے نفسياتي اور جسماني  نقصانات سے بھي سب سے زيادہ بچے ہي متاثر ہورہے ہيں-بچوں کے عالمي ادارے يونيسيف نے شام ميں جنگ جاري رہنے  اور  بچوں کي  صحت پر پڑنے والے منفي اثرات کي بابت خبر دار کرتے ہوئے  کہا ہے کہ پناہگزين کيمپوں ميں خسرہ جيسي وبائي بيماري پھيلتي جارہي ہيں-اقوام متحدہ نے حال ہي ميں اپني ايک رپورٹ ميں کہا ہے کہ شام کو مستقبل ميں ايسے بچوں کا سامنا کرنا پڑے گا جنکو بچپن نصيب نہيں ہوا ،  لکھ پڑھ نہيں سکتے اور نفرت کوٹ کوٹ کر بھري ہوگي-

يہ بيانات ايسے وقت ميں سامنے آئے ہيں جب دنيا کےمختلف ملکوں اور خاص طور پر شام ميں انساني حقوق کا واويلا مچانے والے مغربي ممالک  شام ميں لڑنے والے دہشتگردوں کو مسلح کرکے ، عملي طور پر اس ملک ميں جنگ جاري رکھنے ميں مدد کر رہے ہيں اور يوں اس ملک کو نابود اور پوري ايک نسل کو تباہ برباد کرنے پر تلے ہوئے ہيں-

.......

/169