23 جولائی 2013 - 19:30
مصری فوج نے ملک کے صدر کو اغواء کیا ہوا ہے

مصر میں فوجی بغاوت کے بعد معزول کیے جانے والے صدر محمد مرسی کے اہلخانہ نے کہا ہے کہ مصری فوج نے ملک کے صدر کو اغواء کیا ہے۔

ابنا: محمد مرسی کی بیٹی شائمہ نے پیر کو قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کا خاندان فوج کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر رہا ہے۔

محمد مرسی کو تین جولائی کو ان کے اقتدار کے پہلے برس کی تکمیل پر قاہرہ میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد فوج نے اقتدار سے الگ کر دیا تھا اور اس کے بعد سے ان پر بغیر کوئی الزام عائد کیے نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔

محمد مرسی کی معزولی کے بعد ان کے اہلخانہ کی جانب سے جاری کیا جانے والا یہ پہلا بیان ہے۔

شائمہ مرسی نے کہا کہ ’ہم خونی فوجی بغاوت کے قائد عبدالفتح السیسی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقامی اور عالمی سطح پر قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔‘

فوج کے سربراہ جنرل السیسی کو ملک کی نئی عبوری کابینہ میں نائب وزیراعظم بنایا گیا ہے اور اُن کے پاس وزیر دفاع کا عہدہ بھی ہے۔

سابق صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین نے ملک میں فوج کی حمایت یافتہ نئی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور وہ ان کی رہائی کے لیے قاہرہ میں تقریباً روزانہ ہی مظاہرے کر رہی ہے۔

مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں اب تک درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں، پیر کو تازہ ترین تصادم میں سات لوگوں کی ہلاکت کی خبر ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق سے متعلق سینیئر اہلکاروں نے بھی مصر کی عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بتائے کہ محمد مرسی کو کیوں گرفتار کیا گیا اور ان پر مقدمہ کب چلایا جائے گا۔

.......

/169