23 جولائی 2013 - 19:30
عالمی ادارہ صحت کے انتباہات، ہندوستان میں دسیوں طلباء کی موت

اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم عالمی ادارہ صحت کے انتباہات کو نظرانداز کرنا ہندوستان کی ریاست بہار میں دسیوں طلباء کی موت کا سبب بنا ہے۔

ابنا: اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم عالمی ادارہ صحت کے انتباہات کو نظرانداز کرنا ہندوستان کی ریاست بہار میں دسیوں طلباء کی موت کا سبب بنا ہے۔بہار کے ضلع سرن کے ایک اسکول میں زہریلا کھانا کھانے کےبعد ہلاک ہونے والے بچوں کی موت کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے چار برس قبل ہندوستانی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ مونوکروٹو فس نامی کیڑے مار دوا کااستعمال نہ کیا جائے۔ سرکاری طبی شعبے نے کہا ہےکہ بہار کے حالیہ سانحے کی تحقیقات میں بچوں کی پلیٹوں اور بچے ہوئے کھانے سے مونوکروٹوفس کے ذرات ملے ہیں جو نہایت زہریلے ہوتےہیں اور یہ آرگینو فاسفورس کی ایک کیمیاوی ترکیب ہے۔اقوام متحدہ نے ہندوستانی حکومت سے دوہزار نو میں مطالبہ کی تھا کہ مونوکروٹوفس کیڑے مار دوا پرپابندی لگادے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس کیڑے مار دوا کو نہایت زہریلا قرار دے کر اس پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہےکہ اس کیڑے ماردوا میں شدید زہریلے مادے پائے جاتےہیں جو اعصاب پر بری طرح اثرانداز ہوتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ  زہر ایک سو بیس ملی گرام کی مقدار میں انسان کو ہلاک کردیتا ہے اور اسی وجہ سے بہت سے ملکوں نے اس پر پابندی لگادی ہے۔ واضح رہے حال ہی میں ہندوستان کی ریاست بہار میں ضلع سرن میں ایک اسکول میں زہریلا کھانا کھانے سے تئيس بچے ہلاک اور بیالیس زخمی ہوئے ہیں جو اب بھی زیر علاج ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲