ابنا: رشید نے برطانیہ میں مقیم ملالہ یوسف زئی کو ایک خط بھیجا ہے جس میں پچھلے سال اکتوبر میں ان پر قاتلانہ حملہ کرنے کے مقاصد کی وضاحت کی گئی ہے۔
اس خط میں عدنان رشید نے لکھا ہے کہ ملالہ یوسف زئی کے سر میں گولیاں اس لیے نہیں ماری گئی تھیں کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کر رہی تھیں بلکہ انھیں طالبان کے خلاف مہم چلانے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
عدنان رشید کا کہنا ہے کہ یہ خط انہوں نے پاکستانی طالبان کی طرف سے نہیں بلکہ ذاتی حیثیت سے لکھا ہے۔
عدنان رشید نے خط میں لکھا ہے کہ انھیں ملالہ پر ہونے والے حملے کے بارے میں سن کر دھچکا لگا تھا اور انہوں نے سوچا تھا کہ کاش یہ حملہ نہیں ہوتا۔
ملالہ یوسف زئی نے پچھلے ہفتے ہی بارہ جولائی کو اپنی سالگرہ کے موقع پر نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر میں خطاب کرتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت کے لیے طالبان کو ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
اپنی تقریر میں ملالہ نے کہا تھا کہ ہمیں قلم اور کتاب کی اہمیت کا اندازہ بندوق دیکھ کر ہوتا ہے۔ شدت پسند تعلیم کی طاقت سے خوفزدہ ہیں، وہ خواتین سے ڈرتے ہیں۔
اپنی تقریر میں ملالہ نے کہا کہ طالبان کا خیال تھا کہ ان کی گولی انہیں خاموش کر دے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ قلم اور کتاب دنیا کے سب سے طاقتور ہتھیار ہیں اور ایک طالبعلم، ایک استاد، ایک قلم اور ایک کتاب دنیا بدل سکتے ہیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر عدنان رشید کے اس خط کا مقصد ملالہ یوسف زئی کی تقریر کو ذرائع ابلاغ کی طرف سے ملنے والی توجہ کا مقابلہ کرنا اور پاکستانی معاشرے کو مزید تقسیم کرنا ہے۔
خط میں ملالہ پر کیے جانے والے حملے کو غلط قرار نہیں دیا گیا اور صحیح اور غلط کا فیصلہ خدا پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
خط میں ملالہ سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان واپس آئیں اور اسلامی روایات اور پختون ثقافت کی پیروی کرتے ہوئے اسلامی مدرسے میں داخلہ لیں اور معاشرے کے بااختیار طبقے کی سازش کو بے نقاب کریں جو تمام انسانیت پر غالب آنا چاہتے ہیں۔
واضح ہو کہ عدنان رشید پاکستانی فضائیہ میں نان کمیشنڈ افسر تھے جنہیں 2003 میں سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ 2012 میں خیبر پختونخواہ کے ضلع بنوں کی جیل پر پاکستانی طالبان کے حملے میں دوسرے سینکڑوں قیدیوں کے ہمراہ وہ بھی فرار ہوگئے تھے۔
.......
/169