15 جولائی 2013 - 19:30
جعفریہ یوتھ کے نوجوان قومی دفاعی پالیسی میں ہراول دستے کا کردار ادا کرینگے، اظہار بخاری

جے وائی پی کے مرکزی ناظم اعلٰی نے کہا کہ قومی دفاعی پالیسی وقت کا تقاضا اور ملت کے تحفظ کا واحد راستہ ہے، جس کا ادراک قوم کے تمام طبقات کو بلاتفریق گروہ و جماعت کرنا چاہیے۔

ابنا: جعفریہ یوتھ پاکستان کے مرکزی ناظم اعلٰی سید اظہار بخاری نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور شیعہ عوام کا قتل عام جس سطح تک پہنچ گیا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ اسے بالکل جداگانہ نظر سے دیکھا جائے اور اس کے لیے ایسا لائحہ عمل بنایا جائے جو قومی اور ملکی سطح پر دیرپا اور ٹھوس حل دے سکے اور تحفظ کی مستقل صورت سامنے آسکے۔ کیونکہ اب سب پاکستانیوں نے دیکھ لیا ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف اقدامات کرنے کی قدرت اور طاقت رکھنے والے پاکستان کے انتظامی ادارے، سیاسی جماعتیں، اعلٰی عدلیہ اور ریاستی ادارے بھی ناکام ہوگئے ہیں۔  سید اظہار بخاری نے کہا کہ اداروں کی ناکامی کے بعد قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اپنی قائدانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے بجا طور پر ’’قومی دفاعی پالیسی‘‘ کا اعلان کیا ہے اور قوم کے تمام طبقات کو دعوت فکر و عمل دے کر تعاون کی خواہش کی۔ جعفریہ یوتھ پاکستان اس اعلان کا نہ صرف خیر مقدم کرتی ہے بلکہ ہم قومی دفاعی پالیسی کے نفاذ اور اجراء میں ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے اور ملت کے دفاع کے لیے جعفریہ یوتھ پاکستان تمام تر قربانیاں پیش کرنے کے لیے آمادہ و تیار نظر آئیں گے۔  جعفریہ یوتھ پاکستان کے مرکزی ناظم اعلٰی نے کہا کہ قومی دفاعی پالیسی وقت کا تقاضا اور ملت کے تحفظ کا واحد راستہ ہے، جس کا ادراک قوم کے تمام طبقات کو بلاتفریق گروہ و جماعت کرنا چاہیے۔ ہم نے آئین و قانون کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے کو ترجیح دی اور کبھی ملکی آئین اور قانون کی خلاف ورزی نہیں کی، لیکن ریاست اور عدلیہ نے ہمیں اتنا مایوس کیا کہ ہم اپنے دفاع کے لیے اپنی طاقت پر بھروسہ کرنے کے قانون پر عمل درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔ قومی دفاعی پالیسی کسی مسلک، مکتب، فرقے، سرکاری یا ریاستی ادارے یا حکومت کے خلاف نہیں بلکہ یہ پالیسی ہماری قومی ضرورت اور پاکستان کو امن و امان کا گہوارہ بنانے کا بہترین راستہ ہے۔ اسی راستے پر چل کر قوم کو دہشت گردی سے نجات دلائی جاسکتی ہے، اور پاکستان میں تمام مسالک اور مکاتب فکر سے وابستہ شہریوں کو سکون و اطمینان اور امن کی زندگی گذارنے کا موقع نصیب ہوسکتا ہے۔ ......./169