اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین کی جیلوں میں سیاسی قیدیوں کو ناجائز شکنجے دئے جانے اور ایک قیدی خاتون ریحانہ موسوی کو برہنہ کر کے اس کی تفتیش کئے جانے کے خلاف اس ملک کے بزرگ علمائے دین نے مشترکہ بیان صادر کر کے اس غیر انسانی اور غیر اخلاقی اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ علمائے بحرین نے تاکید کی ہے کہ خواتین کے ساتھ بد سلوکی اور ان کے خلاف جارحیت بڑے جرائم میں سے ہے۔ اور صرف وہی لوگ ایسے اقدامات کے مرتکب ہوتے ہیں جن کے اندر نہ انسانی ضمیر ہوتا ہے اور نہ اخلاقی چال چلن۔ اور ایسے جرائم اگر حکومتی عہدہ داروں کی حمایت میں انجام پائیں تو زیادہ بدتر ہو جاتے ہیں۔بحرین کے بزرگ علماء نے کہا: حالیہ رپورٹ کے مطابق ایک قیدی خاتون کے ساتھ بدسلوکی اور اسی طرح دیگر قیدیوں کے خلاف جارحیت، ایسا عمل ہے جو اسلام اور انسانیت سے دور اور قابل مذمت ہے۔اس مشترکہ بیان میں جو آیت اللہ سید جواد الوداعی، آیت اللہ شیخ عیسی قاسم، آیت اللہ سید عبد اللہ الغریفی ، شیخ عبد الحسین الستری اور شیخ محمد صالح الربیعی کی طرف سے صادر ہوا ہے، بحرین کی حکومت کو ان ناجائز اقدامات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور تاکید کی گئی ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے جان بوجھ کر سیاسی راہ حل کی امید کو ختم کر رہی ہے اور دین خدا اور انسانی اقدار کے ساتھ براہ راست جنگ میں وارد ہو رہی ہے اور اس مومن ملت کے اسلامی ضمیر کو اکسا رہی ہے۔علماء نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ خواتین کے خلاف جارحیت کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا حکومت سےمطالبہ کیا ہے کہ اس خاتون کو جسے بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور دیگر قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اوربے گناہ ہم وطنوں کے حقوق پامال کرنے والوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
13 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 440586
بحرین کے بزرگ علمائے دین نے سیاسی قیدیوں کے خلاف کی جانے والے جارحیت مخصوصا قیدی خاتون کو برہنہ کر کے اس کی تفتیش کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔