10 جولائی 2013 - 19:30
مصر کے بارے ميں امريکا کا موقف مبہم

وائٹ ہاوس کے ترجمان نے کہا ہے کہ مصر ميں محمد مرسي کي برطرفي بغاوت ہے يا نہيں، اس بارے ميں کسي حتمي رائے قائم کرنے ميں مزيد وقت درکار ہے-

ابنا: وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارني نے بدھ کے روز مرسي کي معزولي کے بارے ميں نامہ نگاروں کي جانب سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب ديتے ہوئے اس بات کا اعتراف کيا کہ امريکہ کے لئے  مصر کي صورتحال کے تجزيہ  کرنا مشکل ہوگيا ہے-وائٹ ہاوس کےترجمان کا کہنا تھا کہ امريکہ ابھي تک اس نتيجے پر نہيں پہنچا ہے کہ مصر کي صورتحال کو کيا نام ديا جائے-امريکي عہديدار نے دعوي کيا کہ امريکہ مصري حکام کي کارکردگي کا جائزہ لے رہا ہے کہ وہ اپني قانوني ذمہ داريوں پر کس طرف سے عمل کر رہے ہيں-جے کارني نے کہا کہ مصر کي عبوري حکومت کي جانب سے انتخابات کرانے  کے اعلان کا امريکہ خير مقدم کرتا ہے-امريکي حکام نے تاحال مصر ميں فوج کے ذريعے صدر محمد مرسي کي  برطرفي کي مذمت يا اسے بغاوت کہنے سے گريز کيا ہے-اگر وائٹ ہاوس مصري فوج کے اس اقدام کو بغاوت قرار دے  دے تو پھر اسے مصري فوج کو دي جانے والے تين سو ملين ڈالر کي امريکي امداد بھي بند کرنا پڑے گي.

.......

/169