5 جولائی 2013 - 19:30
امن مذاکرات کے بارے ميں کابل کا موقف

افغان صدر کے مشير برائے قومي سلامتي رنگين داد فر سپنتا نے کہا ہے کہ کابل حکومت کو کمزور کرنے والي امن کي کوئي بھي کوشش کامياب نہيں ہوگي-

ابنا: کابل ميں سياستداں اور عوام کے موضوع پر ہونے والي ايک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے قومي سلامتي کے مشير  کا کہنا تھا کہ دشمنوں کي سرکوبي اور ملک کي آزادي و ارضي سالميت کي حفاظت کرنے والي طاقتور فوج کا ہونا  قيام امن کي اولين شرط ہے-انہوں  نے افغانستان کے بارے ميں بعض مغربي ملکوں کي پاليسيوں پر نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ جب تک طالبان اپنا راستہ القاعدہ  سے الگ نہيں کرليتے ہم ان کے ساتھ مذاکرات نہيں کريں گے-افغان صدر کے مشير کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ہي کہ  چکے ہيں کہ مذاکرات سے پہلے طالبان کو القا‏عدہ سے تعلق ختم  اور افغانستان کے آئين کو قبول کرنے کا اعلان کرنا ہوگا- حکومت افغانستان کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ  کسي بھي قسم کے مذاکرات افغانستان کے اندر اور اسکي نگراني ميں ہونے چاہيں-...../169