ابنا: کابل ميں سياستداں اور عوام کے موضوع پر ہونے والي ايک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے قومي سلامتي کے مشير کا کہنا تھا کہ دشمنوں کي سرکوبي اور ملک کي آزادي و ارضي سالميت کي حفاظت کرنے والي طاقتور فوج کا ہونا قيام امن کي اولين شرط ہے-انہوں نے افغانستان کے بارے ميں بعض مغربي ملکوں کي پاليسيوں پر نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ جب تک طالبان اپنا راستہ القاعدہ سے الگ نہيں کرليتے ہم ان کے ساتھ مذاکرات نہيں کريں گے-افغان صدر کے مشير کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ہي کہ چکے ہيں کہ مذاکرات سے پہلے طالبان کو القاعدہ سے تعلق ختم اور افغانستان کے آئين کو قبول کرنے کا اعلان کرنا ہوگا- حکومت افغانستان کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ کسي بھي قسم کے مذاکرات افغانستان کے اندر اور اسکي نگراني ميں ہونے چاہيں-...../169
5 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 437606
افغان صدر کے مشير برائے قومي سلامتي رنگين داد فر سپنتا نے کہا ہے کہ کابل حکومت کو کمزور کرنے والي امن کي کوئي بھي کوشش کامياب نہيں ہوگي-