ابنا: جمعے کو وینزویلا کے صدر نیکولس مدورو نے کہا ہے کہ ’بولیواریئن ریپبلک آف وینزویلا کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے میں نوجوان امریکی شہری ایڈورڈ سنوڈن کو انسانی بنیادوں پر پناہ دینے کی پیشکش کرتا ہوں تاکہ وہ امریکی استعماری ظلم سے محفوظ بولیوار اور چاویز کے ملک میں آزادی سے رہ سکیں۔ دریں اثناء خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مدورو کی پیشکش سے چند منٹ پہلے نکاراگوا کے صدر ڈینيئل اورٹیگا نے کہا ہے کہ ’اگر حالات اجازت دیں گے تو ان کا ملک بھی ایڈوارڈ سنوڈن کو سیاسی پناہ فراہم کرنے میں خوشی محسوس کرے گا۔‘ ڈینیئل اورٹیگا نے کہا کہ ماسکو میں واقع ، سفارت خانے میں اُنہیں، ایڈورڈ اسنوڈن کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواست موصول ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ صدر اورٹیگا امریکہ کی استعماری پالیسیوں کے سخت ترین مخالفین میں سے ہیں۔ وکی لیکس کے مطابق ایڈورڈ سنوڈن نے مزید چھ ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے۔ وکی لیکس نے یہ بھی کہا کہ ’امریکی مداخلت کی کوشش‘ کے پیش نظر وہ ان ممالک کا نام نہیں بتائي گی۔ اس سلسلے میں اب تک وہ اکیس ممالک میں اپنی درخواست بھجوا چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر نے ان کی پناہ کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ یاد رہے کہ سابق امریکی جاسوس ایڈورڈ اسنوڈن نے حال ہی میں امریکہ میں بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ اور فون کالوں کی نگرانی کے پروگرام پرزم کے بارے میں راز افشاء کیے تھے جس کے بعد سے سرکاری دستاویزوں کی چوری اور غداری کے الزام میں وہ امریکہ کو مطلوب ہیں۔ ......./169
4 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 437425
لاطینی امریکہ کے دو ممالک نکاراگوا اور وینزویلا کے صدورنے امریکی جاسوسی پروگرام کا راز فاش کرنے والے واشنگٹن کو مطلوب سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن کو انسانی بنیادوں پر پناہ دینے کی پیشکش کی ہے۔