ابنا: ان جھڑپوں میں اس وقت شدت آگئی کہ جب جمعہ کو محمد مرسی کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران فوج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ فائرنگ کا واقعہ اُس وقت پیش آیا جب مظاہرین صدارتی محافظوں کے آفسرز کلب کے باہر جمع ہو رہے تھے۔ مینا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فوجی بغاوت میں محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف مصر کے اسکندریہ شہر میں حریف مظاہرین کے درمیان نماز جمعہ کے بعد شدید جھڑپیں شروع ہوگئیں. سکندریہ میں تصادم میں کم سے کم 12 بارہ افراد ہلاک اور 200 زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق مصر کے دوسرے شہروں میں بھی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ خیال رہے کہ مصر کی فوج کے سربراہ نے بدھ کی رات مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جبکہ انھوں نے اس اقدام کو ’فوجی بغاوت‘ قرار دیا تھا۔ قاہرہ میں کشیدیگی اس وقت بڑھی جب مرسی کے حامیوں نے ریپبلیکن گارڈ ہیڈ کواٹرز کی جانب جمع ہونا شروع کیا جہاں اطلاعات کے مطابق محمد مرسی کو رکھا گیا ہے۔ اس سے پہلے محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے ہزاروں حامی شام تک تحریر سکوائر کی قریبی گلیوں میں پھیل گئے۔ اس موقع پر اخوان المسلمین کے سپریم رہنما محمد بادی نے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ہم اس وقت تک تحریر سکوائر میں رہیں گے جب تک ہم صدر محمد مرسی کو واپس اقتدار میں نہیں لاتے‘۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج پر امن ہو گا۔ اس کے فورًا بعد اخوان المسلمین کے تحریر سکوائر کی جانب بڑھے جہاں محمد مرسی کے مخالفین جمع تھے۔ ان جھڑپوں کے دوران ایک کار کو آگ لگا دی گئی جبکہ محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین نے ایک دوسرے پر پتھراؤ بھی کیا۔ ایک الگ واقعہ میں شمالی سینا کے قصبے ال-آرش میں نامعلوم مسلح افراد نے پانچ پولیس اہلکاروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ جمعہ کو ہی اس سے قبل، اخوان المسلمین کے سپریم لیڈر محمد بدیع نے فوجی بغاوت میں جمہوری طور پر منتخب مصر کے پہلے صدر محمد مرسی کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ صدر کے طور پر مرسی کی بحالی تک ملک میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر ڈٹے رہیں گے۔ انہوں نے انقلاب کو مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا جس کے باعث 2011 میں مغربی حمایت یافتہ سابق مصری ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی آمریت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ اخوان المسلمین کے سپریم لیڈر نے کہا کہ مرسی میرے صدر ہیں آپ کے صدر اور تمام مصریوں کے صدر ہیں۔......./169
4 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 437420
مصر کی وزارت صحت کے حکام کے مطابق، ملک بھر میں معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں اور مرسی نواز مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم میں تیس افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔