2 جولائی 2013 - 19:30
آیت اللہ شیخ نجاتی کی شہریت باطل کئے جانے کے خلاف علماء کا دھرنا+تصاویر

بحرین میں آل خلیفہ حکومت کی طرف سے آیت اللہ شیخ حسین نجاتی کی شہریت کو باطل قرار دے کر ان کے حق میں کئے گئے ظلم کے خلاف علماء نے دھرنا دے کر اس غیر منصفانہ اقدام کی مذمت کی ہے۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین میں آل خلیفہ حکومت کی طرف سے آیت اللہ شیخ حسین نجاتی کی شہریت کو باطل قرار دے کر ان کے حق میں کئے گئے ظلم کے خلاف اس ملک کے شہر ’’باربار‘‘ کی مسجد شیخ علی حماد میں علماء نے دھرنا دے کر اس غیر منصفانہ اقدام کی مذمت کی ہے۔

شہر ’’ باربار‘‘ میں آج ہونے والے علماء کے دھرنے میں مسجد امام صادق (ع) کے امام جمعہ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے آل خلیفہ کی طرف سے آیت اللہ شیخ نجاتی کی شہریت کو باطل قرار دے کر ان کے حق میں کئے گئے ظلم و ستم کی مذمت کرتے ہوئے کہا: حکومت آیت اللہ نجاتی پر دباو ڈال کر انہیں اپنے پیدائشی وطن سے جلاوطن کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ بحرین کی قوم ان تمام افراد کے حق میں کئے گئے ظلم کو ہر گز برداشت نہیں کرے گی جن کی شہریت کو باطل کر دے دیا گیا ہے کہا: لوگوں کی شہریت کو باطل کرنا اور انہیں وطن چھوڑنے پر مجبور کرنا یہ حکومت کا اپنے شہریوں کے حق میں کھلا ہوا ظلم ہے۔

شیخ عیسی قاسم نے مزید کہا: جو چیز قابل تعجب ہے وہ یہ ہے کہ بحرینی عوام سے متعلق بیت المال اغیار کو اس ملک میں بسا کر ان پر خرچ کیا جاتا ہے جبکہ اپنے شہریوں کو جو اسی ملک میں پیدا ہوئے ہیں یہ ملک جن کا پیدائشی وطن ہے انہیں ملک چھوڑنے کو کہا جاتا ہے۔اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کی اعلی کونسل کے رکن نے کہا: بحرین کے عوام اور علماء، شیخ نجاتی اور ان تمام افراد جن کی شہریت کو باطل قرار دے دیا گیا ہے نیز شہداء اور جیلوں میں قید انقلابیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی و یکجہتی کرتے ہیں۔

علماء کے اس احتجاجی دھرنے میں حجۃ الاسلام و المسلمین سید سعید الوداعی نے خطاب کرتے ہوئے کہا: حکومت اپنی بد کرداری کا مظٓاہرہ کرتے ہوئے اس مظلوم ملت کے حق میں ظلم کر رہی ہے اور اس طرح کے احمقانہ اقدامات کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اپنی حدود سے آگے بڑھ چکی ہے۔انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ حوزہ علمیہ بحرین اپنے بعض عزیز ہم وطنوں کی شہریت کے باطل کئے جانے کی شدید مذمت اور اس غیر قانونی اقدام کی مخالفت کرتا ہے کہا: آیت اللہ نجاتی علم و معرفت کے میدان میں بلند پائے کی شخصیت ہیں اور ان کے حق میں ظلم و ستم تمام علماء کے حق میں ظلم ہے۔

شیخ محسن ملا عطیہ نے بھی اس پروگرام میں کہا: حکومت اپنے عزیز ہم وطنوں کو جلا وطن کرنا چاہتی ہے اور غیروں کو اس ملک میں بسانا چاہتی ہے ہم ہر گز ایسا نہیں ہونے دیں گے یہ اقدام شرعی اعتبار سے حرم ہے۔واضح رہے کہ بحرین کی آل خلیفہ حکومت نے ۲۰۱۲ میں آیت اللہ شیخ نجاتی کی شہریت کو باطل قرار دے کر انہیں بحرین چھوڑنے کا الٹی میٹم دے دیا تھا۔ آیت اللہ شیخ حسین نجاتی کے دفتر نے بتایا کہ ان کی شہریت کو باطل کئے جانے کے بعد کئی مرتبہ حکومت کی طرف سے ان پر ملک چھوڑنے کے لیے دباو ڈالا گیا ہے اور ان کے اعمال پر نگرانی رکھی جا رہی ہے جبکہ انہیں ایک مرتبہ وزارت خانہ میں بھی طلب کیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲