1 جولائی 2013 - 19:30
مفاد عامہ میں امریکی جاسوسی پروگرام کی معلومات شائع کرنے کے لئے آزاد ہوں

امریکی حکومت کو مطلوب سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے کہا ہے کہ وہ امریکی حکومت کے جاسوسی کے پروگراموں کے بارے میں مزید معلومات شائع کرنے کے لئے آزاد ہیں۔

ابنا: پیر کو رائٹرز کی اطلاع کے مطابق،  سنوڈن نے اکواڈور کے صدر کو ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ میں آزاد ہوں اور مفاد عامہ میں معلومات شائع کرتا رہوں گا۔سنوڈن نے کہا ہے کہ میں اور کتنے دن زندہ رہ سکوں گا مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں، میں اس نا انصافی سے بھری دنیا میں انصاف کے لئے لڑنے کے لئے پر عزم ہوں۔اس سے قبل روسی حکام نے کہا تھا کہ ایڈورڈ سنوڈن نے روس میں سیاسی پناہ لینے کی درخواست کی ہے۔روس کی خبر رساں نیوز ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق ایڈورڈ سنوڈن کے سیاسی پناہ کی درخواست اتوار کو ماسکو ائیرپورٹ پر کونسلر کے حوالے کی گئی۔انٹرفیکس نے دفترخارجہ کے اہلکار کم شیچنکو کے حوالے سے بتایا کہ سنوڈن کے سیاسی پناہ کی درخواست وکی لیکس کے قانونی ٹیم کی ممبر سارہ حیریسن نے جمع کرائی جو ایڈورڈ سنوڈن کی نمائندگی کر رہی تھیں۔تاہم روس کے فیڈرل مائگریشن سروسز نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔لاس انجلیس ٹائمز نے روسی دفتر خارجہ کے حوالے سے بتایا کہ سنوڈن نے پندرہ ممالک میں سیاسی پناہ لینے کی درخواست کی ہے۔اس سے پہلے روس کے صدر ولادمیر پوتن نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ماسکو کسی شخص کو کہیں پر بھی کسی کے حوالے نہیں کرتا اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر سنوڈن کہیں ایسی جگہ جانا چاہتے ہیں جہاں پر انھیں قبول کیا جائے تو وہ بخوشی جا سکتے ہیں۔روسی صدر کا کہنا تھا کہ اگر وہ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو ہماری صرف ایک شرط ہے۔ شاید میرے منہ سے یہ بات عجیب لگتی ہو لیکن وہ ہمارے امریکی ساتھیوں کو نقصان پہنچانے والی اپنی سرگرمیاں بند کردیں۔امریکہ نے اس تازہ صورت حال پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے تنزانیہ میں کہا تھا کہ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان سنوڈن کے حوالے سے اعلی سطح پر مذاکرات ہوئے ہیں۔اوباما نے کہا تھا کہ ہمارے اور روس کے درمیان ملک بدری کا معاہدہ نہیں ہے۔ لیکن دوسری طرف ہم سمجھتے ہیں کہ سنوڈن روس تک بغیر سفری دستاویزات اور پاسپورٹ کے وہاں پہنچے ہیں۔...../169