ابنا: مصر کے سابق آمر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک میں مرکزی اہمیت والے تحریر سکوائر پر بڑی تعداد میں مظاہرین کے اکھٹا ہونے کی اطلاعات ہیں۔حالیہ مظاہروں میں صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں اب تک ایک امریکی کیمرہ مین سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔امریکہ نے اپنے شہریوں کو مصر کا غیر ضروری سفر کرنے سے منع کیا ہے جبکہ قاہرہ میں امریکی سفارت خانے کے غیر ضروری عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کو بڑے جلسوں اور مظاہروں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔مظاہرین صدر محمد مرسی کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ صدر کے حامیوں نے ان کے استعفی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔تحریر سکوائر میں ٹینٹوں اور جھنڈوں کی مدد سے ایک مرکزی دفتر بنایا گیا ہے جہاں مظاہرین کا صدر مرسی کے دفتر کا جانب مارچ کرنے کا ارادہ ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ قاہرہ کے مرکزی ہوائی اڈہ پر مسافروں کی بھیٹر ہے اور یورپ، امریکہ اور خلیجی ممالک جانے والی تمام پرازوں میں بہت رش ہے۔مصر میں برسراقتدار جماعت اخوان المسلمین کے خلاف پرتشدد مظاہروں کی نگرانی کے لیے حکام نے پولیس کے علاوہ فوج کے ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی لی ہے۔مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامی شہر کی مرکزی مسجد کے باہر جمع ہیں۔اس سے قبل صدر مرسی نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ملک میں طاقت کے عدم توازن اور پر تشدد مظاہروں سے ملک کے مفلوج ہونے کا خطرہ ہے۔یاد رہے کہ اسی حوالے سے مصر کی فوج نے خبردار کیا تھا کہ وہ ملک میں جاری مظاہروں کی وجہ سے مصر کو خانہ جنگی کا شکار نہیں ہونے دی گی۔مصر کے عظیم الشان تعلیمی ادارے جامعہ الازہر نے بھی ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پر تشدد مظاہرے کرنے والوں کو مجرموں کی ٹولی بتایا تھا۔مرسی 30 جون 2012 کو پہلی بار جمہوری انتخاب میں کامیابی کے بعد مصر کے پہلے منتخب صدر بنے تھے۔...../169
29 جون 2013 - 19:30
News ID: 435326
اتوار کو مصر کے صدر محمد مرسی کے اقتدار کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر حکومت مخالف اور حامی مظاہرین ریلیاں نکالنے کے لیے سنیچر کی شب سے ہی دارالحکومت قاہرہ میں جمع ہونے شروع ہو گئے ہیں۔