25 جون 2013 - 19:30
شام کے وزیر خارجہ : یورپ شام میں قیام امن کے سد راہ

شام کے وزیر خارجہ ولید معلم نے کہا ہے کہ جو ممالک شام میں بدامنی کی حمایت کر رہے ہیں وہ اس وقت تک اس بحران کے خاتمہ نہیں چاہیں گے جب تک اس بدامنی سے اسرائیل کے مفادات حاصل ہوتے رہیں گے۔

ابنا: شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے ولید معلم کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بدامنی کا خاتمہ ضروری ہے۔ لیکن یورپ شام میں بدامنی کو ہوا دے کر اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کررہا ہے ۔ شام کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائيل کے مفادات شام میں بدامنی جاری رہنے پر منحصر ہیں۔ دمشق نے کہا ہے کہ وہ  شام میں خونریزی کے خاتمے کے لۓ غیر مشروط طور پر جنیوا دو کانفرنس میں شرکت کے لۓ تیار ہے لیکن یورپ ایسی کانفرنسوں کے انعقاد کے سدراہ ہے۔شام کی حکومت کے مخالف گروہوں کے حامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بائيس جون کو  مسلح دہشتگردوں کو فوری طورپر ہتھیار فراہم کرنے سے اتفاق کیا۔ واضح رہے کہ دوحہ اجلاس میں مصر ، فرانس ، جرمنی ، اٹلی ، اردن ، قطر ، سعودی عرب ، ترکی ، متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے سینئر سفارتکاروں نے شرکت کی تھی۔  شام میں مارچ سنہ دو ہزار گيارہ سے بدامنی کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں اس ملک کے متعدد فوجی اور عام شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔ شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بدامنی میں غیر ملکی طاقتیں ملوث ہیں اور رپورٹوں سے بھی اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ شام میں سرگرم دہشتگردوں کی ایک بڑی تعداد دوسرے ممالک کے شہریوں کی ہے۔شام کے حکام کا کہنا ہے کہ جنیوا اجلاس میں اقتدار مخالفین کو سونپنے کا اعلان نہیں کیا جائے گا بلکہ دمشق کے حکام ایک متحدہ قومی حکومت کی تشکیل اور حقیقی شرکت کا راستہ ہموار کرنے کے لۓ جنیوا جائيں گے۔ واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے شام میں مسلح دہشتگردوں کو براہ راست فوجی مدد فراہم کۓ جانے کے بعد دوحہ اجلاس کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔دمشق کا کہنا ہے کہ یورپ اور قطر ، سعودی عرب اور ترکی سمیت اس کے علاقائي اتحادی مسلح دہشتگردوں کی حمایت کررہے ہیں۔یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے پیر کے دن لگزمبرگ میں ایک اجلاس میں شام کے خلاف عائد پابندیوں میں کمی لانے پر اتفاق کے علاوہ شام کے حالات اور اس ملک میں انسانی صورتحال کا جائزہ بھی لیا۔ اس اجلاس کے شرکاء نے جنیوا دو کانفرنس کے دائرہ کار میں شام کے بحران کے سیاسی حل ، شام کے جنگ زدہ علاقوں میں امداد فراہم کرنے ، شام کے باشندوں کی امداد کے لۓ پابندیوں میں کمی اور شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق تحقیقات کے لۓ اقوام متحدہ کی جانب سے حمایت کۓ جانے کی ضرورت پر زور دیا۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کیتھرین ایشٹون نے شام کے بحران کے سیاسی حل اور اخضر ابراہیمی کی کوششوں کی مکمل حمایت پر تاکید کی۔واضح رہے کہ شام میں بدامنی تشویشناک حد تک پھیل چکی ہے اور دنیا والے یہ توقع کر رہے ہیں کہ جنیوا دو کانفرنس میں اس بحران کا کوئي حل تلاش کر لیا جائے گا تاکہ شام میں انسانی المۓ کا خاتمہ ہوسکے۔...../169