ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس عراقچی نے قطر میں طالبان کےسیاسی دفتر کھولنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت کی شروع سے ہی مخالفت کرتا رہا ہے اور ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے مسئلہ کا حل امریکی فوجی مداخلت کے ذریعہ ممکن نہیں بلکہ افغان مسئلہ کا حل مذاکرات کے ذریعہ ممکن ہے۔عباس عراقچی نے کہا کہ ایران تمام افغان گروہوں کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور ایران کا اس بات پر بھی یقین ہے کہ افغان قوم کو قومی مصالحتی مذاکرات کے سلسلے میں امریکی سرپرستی کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی سرپرستی میں ہونے والے مذاکرات در حقیقت مسلط کردہ مذاکرات ہیں جس سے افغان قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ ترجمان نے کہا کہ ایران دہشت گردی کے خلاف ہے دہشت گرد بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بناتے ہیں جو اسلامی ، انسانی اور اخلاقی اقادر کے بالکل خلاف ہے۔ ترجمان نے کہا کہ افغان گروہ باہمی مذاکرات کے ذریعہ اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ اور افغانیوں کو علاقہ میں موجود عظیم ظرفیت سے استفادہ کرتے ہوئے افغانستان کے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔......./169
22 جون 2013 - 19:30
News ID: 432732
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے قطر میں طالبان کےسیاسی دفتر کھولنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت کی شروع سے ہی مخالفت کرتا رہا ہے اور ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے مسئلہ کا حل امریکی فوجی مداخلت کے ذریعہ ممکن نہیں بلکہ افغان مسئلہ کا حل مذاکرات کے ذریعہ ممکن ہے۔