ابنا: فارس نیوز کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا ہے حکومت اسلام آباد طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے آمادہ ہے تاکہ موجودہ مسائل کا کوئي حل نکالا جاسکے۔ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور اس نے فیصلہ کیا ہےکہ ان گروہوں کے ساتھ جو مذاکرات کے خواہاں ہیں مذاکرات کرے گي۔ ادھر طالبان نے کہا ہےکہ وہ حکومت پاکستان کی مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرچکی ہے اور اسی موقف پر قائم ہے۔ طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ان کے رہنما احسان اللہ احسان کی ہلاکت کی بنا پر طالبان پاکستان حکومت سے مذاکرات نہيں کرے گي۔ انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ نواز شریف حکومت نے طالبان سے رابطہ کیا ہے۔ قابل ذکر ہے پاکستان گيارہ سمتبر کے واقعات سے پہلے طالبان کے ساتھ مکمل طرح سے ہماہنگ تھا۔ طالبان نے دوہزار بارہ میں پاکستانی حکومت کےمذاکرات کی اس شرط پر حامی بھرلی تھی کہ اس کے سینئر رہنماوں کو رہا کردیا جائے گا اور پاکستان کی بعض سیاسی پارٹیاں ان مذاکرات پر عمل درامد کی ضمانت دیں گي لیکن طالبان کے اس اعلان کے بعد امریکی ڈرون طیاروں کے حملے میں طالبان کا سینئر رہنما ولی الرحمان ماراگيا جس کے بعد طالبان نے مذاکرات سے انکار کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲