10 جون 2013 - 19:30
یمن میں سیکورٹی فورس کے حملے میں شیعہ مسلمانوں کے قتل کے خلاف مظاہرے

يمن ميں ہزاروں افراد نے سيکورٹي فورس کے اہلکاروں کے ہاتھوں شيعہ مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف دارالحکومت صنعا ميں مظاہرے کئےہيں۔

ابنا: يہ مظاہرے صنعا ميں قومي سلامتي کي عمارت کے باہر کئےگئے جہاں اتوار کو حوثي قبائل سے تعلق رکھنےوالے مظاہرين پر سيکورٹي اہلکاروں نے حملہ کرکے دس افراد کو جاں بحق اور اڑتيس ديگر کو زخمي کرديا تھا۔اس واقعے کے خلاف ہونےوالے مظاہرے کے شرکا نے سيکورٹي فورس کے اس طرح کے وحشيانہ اقدام کي مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کيا کہ وہ واقعے کي تحقيقات کرے اور بے گناہ شہريوں کے قتل عام کے ذمے داروں کو سزا دے۔ مظاہرين نعرے لگارہے تھے کہ انقلاب کو جاري رکھو اور سيکورٹي ادارے بدعنوان ہوچکے ہيںحوثي قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کي بڑي تعداد نے اتوار کو صنعا ميں قومي سلامتي کي عمارت کے باہر مظاہرہ کيا تھا۔ اتوار کو يہ مظاہرے قومي سلامتي کے ادارے کے ذريعے انساني حقوق کي پامالي کے خلاف کئےگئے تھے۔ مظاہرين نے اسي طرح جيلوں ميں بند حوثي قيديوں کي بھي رہائي کا مطالبہ کيا۔يمن ميں شيعہ مسلمانوں کي تنظيم کا نام اس تنظيم کے باني يعني حسين بدرالدين الحوثي کے ہي نام پر ہے - واضح رہے کہ يمن کي الحوثي تحريک نے يمني عوام کي انقلابي تحريک ميں جو ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کے استعفے پرمنتج ہوئي اہم کردار ادا کيا تھا۔...../169