10 جون 2013 - 19:30
فون اور انٹرنیٹ پر نگرانی کے امریکی جاسوسی پروگرام کو بے نقاب کرنے والا لا پتہ

امریکی حکومت کی جانب سے فون اور انٹرنیٹ پر نگرانی کے ذریعے چلائے جا رہے بڑے پیمانے پر جاسوسی پروگرام کا پردہ فاش کرنے والے سی آئی اے کے سابق ملازم ہانگ کانگ میں اپنے ہوٹل سے غائب ہیں۔

ابنا: انتیس سالہ ایڈورڈ سنوڈن پیر سے لاپتہ ہیں۔ اس سے قبل سنوڈن نے کہا تھا کہ ساری دنیا کے لوگوں کی آزادی اور پرائیویسی کو لاحق خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے انہوں نے پرزم نامی اس جاسوسی پروگرام کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو امریکی استبداد سے بچانے کی ان کی اخلاقی ذمہ داری تھی۔حال ہی میں ایڈورڈ سنوڈن نے امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے بڑے پیمانے پر فون اور انٹرنیٹ کی نگرانی کے بارے میں ایک برطانوی اخبار کو بتایا تھا اور بعد میں ان کی مرضی کے مطابق اخبار نے ان کا نام ظاہر کیا تھا۔ہانگ کانگ کی ایک کمپنی بوز ایلن ہیملٹن میں بطور دفاعی کنٹریکٹر ملازم سنوڈن نے کہا کہ میں ایسے معاشرے میں نہیں رہنا چاہتا جہاں ہر وہ چیز جو میں کروں یا کہوں اس کو ریکارڈ کیا جائے۔واضح رہے کہ انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسی کے اس پروگرام کے ذریعے لوگوں کی ذاتی ویڈیوز، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات، تصاویر اور ای میلز تک حاصل کر لی جاتی ہیں۔حال ہی میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی ایک رپورٹ شائع کی تھی کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں شہریوں کی جاسوسی کی غرض سے انٹرنیٹ کی نو بڑی کمپنیوں کے سرورز سے صارفین کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں میں فیس بک، یو ٹیوب، اسکائپ، ایپل، پال ٹاک، گوگل، مائکروسافٹ اور یاہو بھی شامل ہیں۔ایڈورڈ کا کہنا تھا کہ وہ ہانگ کانگ اس لیے گئے کہ وہاں پر آزادی اظہار کا حق ہے۔ ایڈورڈ بیس مئی کو ہانگ کانگ پہنچے تھے اور ان کے پاس 90 دن کا ویزا ہے۔خیال رہے کہ ہانگ کانگ چین کا علاقہ ہے تاہم اس کا امریکہ کے ساتھ مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ موجود ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر سنوڈن کو امریکہ لے جانے کی کوشش میں کئی ماہ لگ سکتے تھے اور ممکنہ طور پر چین ان کوششوں کو ناکام بھی بنا سکتا تھا۔ اس لیے وہ سنوڈن کے غائب ہونے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، اس لئے کہ ماضی میں امریکی جاسوسی ایجنسیاں دنیا میں پڑے پیمانے پر اغوا اور لوگوں کو غیر قانونی طور سے اٹھا لے جانے میں ملوث رہی ہیں۔واضح رہے کہ براک اوباما نے اس جاسوسی پروگرام کا دفاع کیا تھا۔......./169