ابنا: ہندوستان زیر انتظام کشمیر کے مفتی اعظم مولانا مولوی مفتی بشیر الدین احمد صاحب نے عالمی اردو خبررساں ادارے نیوز نور کے ساتھ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے وفات کی 24ویں سالگرہ کے موقعہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: امام خمینی (رح) ایک ایسی علمی، ثقافتی، تمدنی شخصیت تھے جن کو پوری دنیا آیت اللہ حجت اللہ کے نام سے جانتی ہے۔
مفتی اعظم کشمیر نےایران کو اسلام کا دیرینہ مروج اور کشمیر کا ایران کے ساتھ لازم و ملزوم رشتہ عنوان کرتے ہوئے کہا: ایران اور کشمیر دو ایسی مملکت ہیں اور ایک ایسی ریاست ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ لازمی طور ملے جلے ہوئے ہیں۔ اسلام ایران سے کشمیر میں آیا اور لانے والے تھے حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی (رح) جو حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہٗ کے اولاد میں سے ہیں۔ اور اس کے بعد انہوں نے اسلام کو یہاں شائع کیا۔ اسلامی اقدار کو انہوں نے بلند کیا۔ اور اسلام کو بڑی تقویت ملی حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی (رح) کی وساطت سے۔
انہوں نےخود کو بھی ایرانی عنوان کرتے ہوئے کہا:ہمارا خاندان بھی ایران سے آیا ہوا ہے اور ایران کے علاقہ جسے خارزم کہتے ہیں جو کہ آج شمالی ترکمستان کے نام سے مشہور ہے۔ وہاں سے ہم آئے ہیں۔ اور اس سے پہلے ہم مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ سے آئے ہوئے تھے، پھر دہلی آئے اور دہلی سے کشمیر آئے۔ بہر حال یہ بڑا رشتہ ہے جس کی میں نے وضاحت کی ہے حال ہی ایران میں منعقدہ اسلامی بیداری بین الاقوامی کانفرنس کے دوران میں نے صدر مملکت سے ملاقات کے دوران ان کو پوری صورتحال سے واقف کیا ۔
مسلم پرسنل لا بوڑد جموں و کشمیر کے سربراہ نے امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:دیکھئے آج ہم امام خمینی (رح) کی مناسبت سے ایک بڑی تقریب منانے جارہے ہیں جو ۳ جون ۲۰۱۳ کو منعقد ہورہی ہے۔ امام خمینی (رح) ایک ایسی علمی، ثقافتی، تمدنی شخصیت تھے جن کو پوری دنیا آیت اللہ حجت اللہ کے نام سے جانتی ہے۔ اور اس سلسلے میں انہوں نے جو بھی کارنامے انجام دئے اسلام کے احیاء نو کیلئے اور ایران کو بلند مرتبہ دینے کیلئے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ایران میں جو انقلاب آیا اور شہنشاہیت جو ختم ہوئی اور اسلامی اقدار کو جو وہاں تقویت ملی اُس کا سہرا امام خمینی (رح) کو ملتا ہے جو دنیا کے ایک عظیم ترین شخصیت مانی جاتی ہیں۔
انہوں مذید کہا:امام خمینی (رح) نے انقلاب لایا۔ انقلاب کے ساتھ ساتھ اقدار میں بھی انقلاب آیا ، ثقافت میں بھی انقلاب آیا ، تہذیب و تمدن بھی اجاگر ہوا۔ اور بڑی ایک عظیم شخصیت ابھر کر دنیا کے سامنے،ہمارے سامنے ہے۔ کیونکہ انہوں نے جو کچھ کام کیا وہ آج ہم ایران میں دیکھ رہے ہیں۔ ایران ایک بڑی طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔ ایران سے آج امریکہ، اسرائیل اور تمام جو دوسری سامراجی قوتیں ہیں مرعوب ہیں اور ارتاش پکڑ رہی ہے۔ اُن میں کوئی تقویت نہیں ہے کیونکہ ایران نے اپنے مصمم ارادے کو اجاگر کیا اور ایران میں ایک پر امن نیوکلیر اسٹیٹ بن گئی۔ جو آجکل بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کی طرف گامزن ہورہی ہے۔
مفتی اعظم کشمیر جناب مفتی بشیر الدین احمد نے امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کو اتحاد و یکجہتی کا علمبردار عنوان کرتے ہوئے کہا:امام خمینی (رح) نے جو اتحاد کا نعرہ دیا اُس کے ثمرات، اُس کے اثرات آج نکل رہے ہیں۔ آج تمام ایک ہی پلیٹ فارم پر شیعہ سنی تمام فرقے کے لوگ جو الگ الگ بٹے ہوئے تھے ایک ہی جھنڈے تلے اور ایک ہی منظم طریقے سے کام کرہرے ہیں اور کام کرنے کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔
.......
/169