31 مئی 2013 - 19:30
شیعہ, یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی بدتر ہیں/ حزب اللہ حزب شیطان ہے/ ایران اہلسنت کو نگلنا چاہتا ہے

تکفیری وہابیوں کے باپ شیخ یوسف قرضاوی نے گزشتہ روز قطر کے دار الحکومت دوحہ میں نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران اہل تشیع کی نسبت اپنے اندر بھرا شدید بغض و نفرت کا سارا زہر اگل دیا۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تکفیری وہابیوں کے باپ شیخ یوسف قرضاوی نے گزشتہ روز قطر کے دار الحکومت دوحہ میں نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران اہل تشیع کی نسبت اپنے اندر بھرے شدید بغض و نفرت کے زہر کو اگل دیا۔ اس وہابی مفتی نے شام میں موجودہ حکومت کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کی شرکت کو واجب قرار دیا اور تکفیری دھشتگردوں کے وحشیانہ اقدامات جیسے صحابی رسول(ص) کی قبر کی توہین ، مسلمانوں کے سروں کا قلم کرنا اور مردوں کو چیر پھاڑ کر ان کے جگر نکال کر چبانا وغیرہ کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا: جب سے حافظ اسد اور اس کے بعد اس کے بیٹے نے اس ملک کی حکومت پر قبضہ کر رکھا ہے لوگوں کا امن و سکون نصیب نہیں ہوا۔وہابیوں کے اس امام جمعہ نے شام کے شیعوں کو یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی بدتر قرار دیا اور شام کی نسبت روس کی حمایت کی بھی مذمت  کرتے ہوئے کہا: میں دنیا کے تمام مسلمانوں کو حکم دیتا ہوں کہ القصیر کے راستے سے شام میں داخل ہوں اور حزب اللہ کا مقابلہ کریں۔قرضاوی جو خلیج فارس کے عرب ڈکٹیٹروں کا سرغنہ ہے نے حزب اللہ لبنان کو بھی برے الفاظ سے یاد کرتے ہوئے کہا: حزب اللہ، طاغوت اور شیطان کا گروہ ہے۔ یہ ہزاروں لوگ ہیں جو اس کی پیروی کرتے ہیں جسے’’ نصر اللہ‘‘ کہتے ہیں لیکن وہ ’’ نصر الشیطان ‘‘ ہے!۔اس مفتی نے اسلامی مزاحمت کا بھی مزاق اڑاتے ہوئے کہا: حزب اللہ کے عناصر کہتے ہیں ہم مزاحمت اور مقاومت کے دشمنوں کا قلع قمع کریں گے۔ کون سی مزاحمت؟ کون سی مقاومت؟قرضاوی جو مفتن ترین مفتی ہونے کے عنوان سے مشہور ہے نے عربی ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ دمشق کی حمایت کرنے کے بدلے میں تہران اور مسکو پر اقتصادی اور سیاسی پابندیاں لگائی جائیں۔دنیا ساری دیکھ رہی ہے کہ سعودی عرب اور قطر شام میں دھشتگردوں کی  حمایت کر کے بے گناہ لوگوں کا قتل عام کروا رہے ہیں لیکن دوحہ کا امام جمعہ شام میں قتل ہونے والے مسلمانوں کا گناہ ایران اور روس کی گردن پر ڈال کر کہہ رہا ہے: امیر قطر شیخ حمد آل ثانی بشار اسد کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہوا لیکن کسی نے اس کی حمایت نہیں کی۔قرضاوی نے نیز گزشتہ روز عصر کو دوحہ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں اسلامی جمہوریہ ایران اور حزب اللہ لبنان کو اپنے مزید حملوں کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ایران میں متعصب لوگ اہلسنت کو نگل رہے ہیں اور ادھر سے تقریب بین المذاہب کا نعرہ لگا کر ہمیں نزدیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ میری اور مجھ جیسوں کی داڑھی پر ہنستے ہیں۔اس مفتن مفتی نے دوسری بار حزب اللہ کی توہین کرتے ہوئے کہا: میں نے کچھ سال پہلے سید حسن نصراللہ کے گروہ کہ جسے وہ حزب للہ کہتا ہے کی حمایت کی اور کئی بار سعودی علماء کے مقابلے میں کھڑا ہو کر حزب اللہ کا دفاع کیا لیکن اب میں سمجھا ہوں کہہ سعودی عرب کے علماء مجھ سے زیادہ اہل بصیرت تھے وہ ٹھیک سے ایرانیوں اور حزب اللہ کی حقیقت سے واقف تھے۔وہابیوں کے اس مفتی نے شام کی نسبت اپنے اندر بھرا ہوا کینہ کا زہر تو اگل دیا لیکن کبھی بھی اس نے فلسطین کے مظلوم عوام پر ہونے والے صہیونی مظالم کی نسبت کسی تشویش کا اظہار نہیں کیا بلکہ برعکس صہیونی حکومت کی نسبت اپنی سخت ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے کہا: شام کے مخالف اسرائیل کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں اور نہ ہی اسرائیل مسلمانوں کے لیے کوئی خطرہ ہے۔حزب اللہ لبنان کے ذمہ دار افراد نے بارہا تاکید کی ہے کہ حزب اللہ کے سپاہی شام میں صرف اسلامی مقدسات کی حفاظت کے لیے بھیجے گئے ہیں لیکن قرضاوی نے حزب اللہ پر سراسر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے : نصر اللہ نے حزب اللہ کو شام میں اہلسنت کا قتل عام کرنے کے لیے بھیج رکھا ہے۔یوسف قرضاوی در حقیقت مصر کے مفتی ہیں جو قطر میں مقیم ہیں اور تکفیری وہابیوں کی شدید حمایت کی بنا پر انہیں سلفیوں کا باپ کہا جاتا ہے۔اہلسنت کے روشن فکر علماء قرضاوی کو صہیونی تفکر کا حامل مفتی ہونے کی وجہ سے انہیں ’’ صہیونی مفتی ‘‘ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲