31 مئی 2013 - 19:30
کراچی، دہشتگردوں کی فائرنگ سے ماہر تعلیم پروفیسر اظفر رضوی شہید

پاکستان ایسوسی ایشن آف پریس فوٹو گرافرز، پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن، مجلس وحدت مسلمین، ایم کیو ایم و دیگر نے پروفیسر اظفر رضوی کے سفاکانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

ابنا: شہر قائد میں دہشت گردوں کی جانب سے شعبہ تعلیم سے وابستہ شخصیات اور طلباء کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی کے علاقے کریم آباد میں موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں کی فائرنگ سے نجی اسکول اور کوچنگ سینٹر کے مالک، ماہر تعلیم پروفیسر اظفر رضوی اور ان کا ڈرائیور عبدالغفار جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق کریم آباد چورنگی کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پروفیسر اظفر رضوی کی گاڑی رجسٹریشن نمبر ANG771 پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا۔ اظفر رضوی کی لاش اور زخمی ڈرائیور کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈرائیور بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔

پروفیسر اظفر رضوی ڈھاکہ کوچنگ سینٹر کے سربراہ تھے جبکہ وہ پریس فوٹو گرافر ایسوسی ایشن کے سرپرست بھی تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد تعلیمی اداروں کیلئے اپنی خدمات فراہم کی تھیں۔ اظفر رضوی انجمن تاریخ اردو پاکستان کے اعزازی سیکریٹری کے طور پر خدمات دیتے رہے ہیں۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف پریس فوٹو گرافرز، پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن، مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے پروفیسر اظفر رضوی کے سفاکانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے اظفر رضوی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے چوبیس گھنٹوں میں واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پروفیسر سید اظفر رضوی کے نام میں رضوی ہونے کے باعث اہل تشیع شخصیت سمجھ کا ٹارگٹ کیا گیا ہے، ماضی میں بھی اس قسم کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲