29 مئی 2013 - 19:30
میانمار حکومت کی نسل پرست پالیسیوں کی شدید مذمت

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ میانمار حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے لیے دو بچوں کی حد اقلیتی طبقہ کے خلاف جاری انسانی حقوق کی متعدد خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے اور یہ اس ملک میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے جاری کوششوں کا ہی ایک حصہ ہے۔

ابنا: میانمار کے مسلمانوں پر کہ جنہیں ملک میں بد ترین نسل پرستی کا سامنا ہےزیادہ سے زیادہ دو بچے اور ایک بیوی کی پابندی کا نفاذ کیا جارہا ہے۔جبکہ اس پالیسی کا اطلاق بودھوں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں پر نہیں ہوگا۔ مسلمانوں پر بچوں کی پیدائش کی حد کا اطلاق نیا نہیں ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں پر اس پالیسی کا نفاذ سنہ 2005 سے جاری ہے۔’ہیومن رائٹس واچ‘ کے ایشیائی امور کے ڈائریکٹر، فِل رابرٹس کا کہنا ہے کہ میانمار حکومت کو چاہیے کہ وہ یہ پالیسی اور مسلمانوں کے خلاف اس طرح کی دوسری پابندیاں منسوخ کر دے۔اُن کے بقول، جب لوگ شادی کی اجازت کی درخواست دیتے ہیں تو روہنگیا مسلمانوں سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ تحریری طور پر یہ وعدہ کریں کہ وہ دو سے زیادہ بچے پیدا نہیں کریں گے۔ دو کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کو رجسٹر نہیں کیا جائے گا۔ اِس لیے، وہ  کسی  اسکول میں داخل نہیں ہوسکیں گے اور اُنھیں حکومت کی طرف سے کسی قسم کی تعلیمی یا دوسری سہولتیں نہیں ملیں گی اور نہ ہی اُنھیں اپنے والدین کے ساتھ کہیں سفر پر جانے کی اجازت ہوگی۔ وہ بے وطن لوگوں کے غیر رجسٹرڈ بچے بن جائیں گے اور یہ ایک ایسی بدترین صورتِ حال ہے جس کا آپ شاید ہی تصور کرسکیں۔میانمار کے حکام کا کہنا ہے کہ حکومت محض رکھائن کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ صدارتی کمیشن نے رکھائن کے بودھوں اور مسلمانوں کے درمیان پچھلے سال کی فرقہ وارانہ بدامنی کی چھان بین کی تھی۔اُس نے دوسری سفارشات کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں بچوں کی پیدائش کی بلند شرح کم کرنے کے لیے خانداندی منصوبہ بندی کی سفارش بھی کی تھی۔حکومت کو اس بات کا خوف ہے کہ رکھائن میں مسلموں کی آبادی کہیں بودھوں کی آبادی سے زیادہ نہ ہو جائے۔گذشتہ برس، ریاست رکھائن کے پُرتشدد فرقہ وارانہ فسادات میں سیکڑوں مسلمان ہلاک اور ہزاروں افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ ایک لاکھ چالیس ہزار لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔’ہیومن رائٹس واچ‘ نے اِس تشدد کو نسل کشی قرار دیا اور اس میں سکیورٹی فورسز کے ملوث ہونے اور اجتماعی قبروں کے شواہد کا حوالہ پیش کیا۔حزب اختلاف کی قائد، آنگ سان سوچی نے کہ جو ملک میں مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش تماشائی بنی رہی ہیں اور دنیا بھر میں ان کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، پیر کے روز نامہ نگاروں سے کہا کہ دو بچوں کی پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔لیکن، اُن کی ’نیشنل لیگ فور ڈیموکریسی‘ اب تک روہنگیا مسلمانوں کو ایک نسلی اکائی یا میانمار کے شہری کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کرتی رہی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں  کا ماننا ہے کہ روہنگیا مسلمان دنیا بھر میں سب سے زیادہ بدسلوکی کا نشانہ بننے والی اقلیت ہیں۔

.......

/169