ابنا: علی اکبر صالحی نے آج تہران میں شام کےبارے میں نشست کی افتتاحیہ تقریب میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہےکہ مسئلےکے تمام فریقوں کی شرکت کے بغیر اس بات کی امید نہیں رکھی جاسکتی کہ بے گناہوں افراد کا قتل عام رکے گا اورانتھا پسند و غیر ذمہ دار افراد کی سرگرمیاں کم ہونگي۔ انہوں نے کہاکہ شام اور اسکے عوام کو قربان کرنے کے نتائج یقینا نہایت زیاں بار ہونگے اور علاقے اور عالمی سطح پر عدم استحکام کا سبب بنیں گے۔ انہوں نے شام پر صیہونی حکومت کے حالیہ حملوں کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتےہوئے کہا کہ ایران شام میں ہرطرح کی بیرونی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران شام کےبحران کے حل کے لئے جینوا مذاکرات اور اقوام متحدہ کے سیکرٹیری جنرل کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہر اقدام کے لئے ضروری ہےکہ اس میں تشدد کی نفی کی گئي ہو اور فوری طور پر تنازعے کو ختم کرنے پر تاکید کرتا ہو اور ان اھداف تک پہنچنے کے لئے شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کے لئے ہتھیاروں کی ترسیل بند ہونی چاہیے۔ قابل ذکرہے تہران میں شام کےبارے میں اجلاس آج مقامی وقت کے مطابق چار بجے شروع ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲