28 مئی 2013 - 19:30
شام کو ایس-300 طیارہ شکن میزائلوں کی فراہمی کا فیصلہ بالکل صحیح ہے

روس نے شام کو ایس-300 طیارہ شکن میزائلوں کی فراہمی کے اپنے فیصلے کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہتھیار شام میں غیر ملکی مداخلت کے خیال کو پنپنے سے روکنے میں مدد دیں گے۔

ابنا: روس کے نائب وزیرِ خارجہ سرگئی ریابکوف کا کہنا ہے کہ یہ میزائل علاقے میں امن و استحکام قائم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے اور یہ کچھ ’سر پھرے‘ عناصر کو تنازعِے میں کودنے سے باز رکھیں گے۔
روس نے یورپی یونین کی جانب سے شام میں فریقین کو اسلحہ کی فراہمی پر عائد پابندی برقرار نہ رکھنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی ہے۔
سرگئی ریابکوف نے کہا کہ یہ اقدام شام میں قیامِ امن کے لیے ہونے والی کانفرنس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایس-300 میزائلوں کی فراہمی کا معاہدہ کئی سال قبل طے پایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس سپلائی کو ایک استحکام بخشنے والا عنصر مانتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ایسے اقدامات کچھ سرپھروں کو ایسے حالات کے بارے میں غور کرنے سے باز رکھیں گے جو اس تنازع کو بین الاقوامی شکل دے کر غیر ملکی طاقتوں کو اس میں ملوث کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔
نیٹو میں روس کے نمائندے الیگزینڈر گرشکو نے بھی اس ضمن میں کہا ہے کہ ان کا ملک ہتھیاروں کی فراہمی کے سلسلے میں عالمی قوانین کے فریم ورک کے عین مطابق کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایسا کچھ نہیں کر رہے جس سے شام میں حالات تبدیل ہو سکتے ہوں۔ ہم جو ہتھیار فراہم کر رہے ہیں ان کا استعمال دفاعی مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔
امریکہ، اسرائیل اور کچھ دیگر مغربی ممالک روس پر دباو ڈال رہے ہیں کہ وہ شام کو اپنے وعدے کے بر خلاف ایس-300 میزائلوں کی فراہمی روک دے۔
دریں اثنا، اسرائیل کے جنگی امور کے وزیر موشے یالون نے کہا ہے کہ شام کو مہیا کرائے جانے والے ایس-300 طیارہ شکن میزائلوں کی پہلی کھیپ ابھی روس سے روانہ نہیں کی گئی ہے، یالون نے دھمکی بھرے لہجے میں کہا کہ اگر میزائلوں کی کھیپ شام پہنچتی ہے تو اسرائیل کو معلوم ہے کہ کس طرح کا ردّ عمل کیا جانا ضروری ہے۔

.......

/169