ابنا: شام کے وزير خارجہ وليد معلم نے اتوار کي شام عراق کے وزير خارجہ ہوشيار زيباري کے ساتھ مشترکہ پريس کانفرنس ميں اعلان کيا کہ شام جنيوا دو مذاکرات کي حمايت کرتا ہے اور ايک سرکاري وفد اس اجلاس ميں شرکت کے لئےبھيجا جائے گا-وليد معلم نے شام کے بحران کے بارے ميں کہا کہ شام کي مخالف ، دہشتگردي کي حامي حکومتيں ، وہي ہيں جنہوں نے اس سے پہلے عراق کو ہدف قرار ديا تھا - انہوں نے کہا کہ شام کے بحران کے حل کا واحد راستہ شام کي حکومت اور مخالفين کے درميان گفتگو ہے - انہوں نے کہا کہ کوئي بھي بيروني طاقت شام کے عوام پر اپنے نظريات مسلط نہيں کرسکتي -شام کے وزير خارجہ نے کہا کہ شام کے مستقبل کے بارے ميں فيصلہ کرنے کا حق صرف شام کے عوام کو حاصل ہے -عراق کے وزير خارجہ ہوشيار زيباري نے بھي اس پريس کانفرنس ميں کہا کہ عراق جنيوا دو بين الاقوامي اجلاس کي حمايت کرتا ہے اور اس ميں شرکت کرے گا - انہوں نے شام کے بحران کے حل کے لئے پر امن سياسي طريقے اپنانے پر زور ديا –عراق کے وزيرخارجہ نے کہا کہ کسي بھي بيروني طاقت اور حکومت کو شام کے عوام کا سرپرست بننے اور اس کي جانب سے فيصلہ کرنے کا حق حاصل نہيں ہے- انہوں نے کہا کہ تشدد سے کوئي مسئلہ حل نہيں ہوسکتا ہے اور شام کا مسئلہ بيروني مداخلت کے بغيراس ملک کي حکومت اور مخالفين، کے درميان مذاکرات کے ذريعے ہي حل ہوسکتا ہے - شام کے وزير خارجہ وليد معلم بدھ کو بغداد پہنچے ہيں - انہوں نے اس سفر ميں اپنے عراقي ہم منصب کے ساتھ مذاکرات اور مشترکہ پريس کانفرنس ميں شرکت کے علاوہ وزير اعظم نوري المالکي اور ديگر عراقي شخصيات سے بھي ملاقات اور بحران شام سميت مختلف موضوعات پر تبادلہ خيال کيا ہے-
.....
/169