25 مئی 2013 - 19:30
عراقی وزیر اعظم: شیعہ و سنی مسلمانوں کے اتحاد کا مظاہرہ

عراق کے وزیر اعظم نوری مالکی کی اپیل پر اس ملک کے شیعہ اور سنی مسلمانوں نے دارالحکومت بغداد میں پہلی بار مل کر نماز جمعہ ادا کر کے اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔

ابنا: عراق میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کی مشترکہ نماز جمعہ میں علماء اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سنی اور شیعہ مسلمانوں نے ایسی حالت میں یہ نماز مشترکہ طور پر ادا کی کہ جب بہت سی طاقتوں نے عراقیوں کے اتحاد کو نشانہ بنا رکھا تھا اور وہ مختلف قبائل کے درمیان اختلافات پیدا کرنےکے درپے تھیں۔ عراق میں اہل تشیع اور اہل سنت کی مشترکہ طور پر ادا کی جانے والی اس نماز سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ عراقی وزیر اعظم نوری مالکی کی حکومت کو عراق میں مقبولیت حاصل ہے۔ انھوں نے عراقیوں کو اتحاد کی دعوت خلوص اور ہمدردی کی بنیاد پر دی ہے اور اس کے پیچھے کوئي سیاسی مقاصد کارفرما نہیں ہیں۔

نوری مالکی عراق میں آبادی اور پارلیمانی دھڑوں کے اتحاد کی بنیاد پر اس ملک کے وزیر اعظم بنے لیکن اقتدار سے باہر رہنے والے بعض گروہوں نے ان پر آمرانہ پالیسیاں اختیار کرنےکا الزام لگا دیا۔ حالانکہ سیاسی اور سیکورٹی کے میدانوں میں نوری مالکی کے حالیہ فیصلے اور مشترکہ نماز قائم کرنے کی دعوت سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ انھوں نے عراق کے قومی کو مفاد اپنے مدنظر رکھا ہے۔ انھوں نے عراق کے کچھ شہروں میں بعض فوجی اور سیکورٹی عہدیداروں کےجو تبادلے کۓ ہیں اس کا مقصد بھی عراق میں زیادہ سے زیادہ امن قائم کرنا ہے۔

سعودی عرب ، قطر اور ترکی کے حمایت یافتہ بعض عراقی گروہ اس ملک میں تخریب کاری کے لۓ کوشاں ہے تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ نوری مالکی کی حکومت اپنے فرائض انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔ نوری مالکی کی حکومت جب بھی مختلف میدانوں میں کامیابیاں حاصل کرتی ہے تو یہ گروہ حرکت میں آجاتے ہیں مثلا بیس اپریل کو عراق میں صوبائي کونسلوں کے انتخابات میں نوری مالکی کے حامیوں نے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔

اس کامیابی کے بعد غیر مقبول گروہوں نے اپنے تخریبی اقدامات میں شدت پیدا کردی اور نوری مالکی کی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کۓ۔ ترکی ، قطر اور سعودی کا حمایت یافتہ العراقیہ اتحاد نوری مالکی کی قانونی حکومت کے راستے میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کرتا رہتا ہے۔ العراقیہ اتحاد ایسی حالت میں نوری مالکی کی حکومت کی راہ میں مشکلات کھڑی کر رہا ہےکہ جب خود اس کو ملک میں کوئي مقبولیت حاصل نہیں ہے اور وہ اغیار کے تعاون سے عراق کے سیاسی میدان میں تخریبی کردار ادا کرتا ہے۔

عراق کے آگاہ اور ہوشیار عوام نے اسی بات کے ادارک کے ساتھ عراقی وزیر اعظم نوری مالکی کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے مشترکہ طور پر دارالحکومت میں نماز جمعہ قائم کی ہے۔ یہ نماز عراقیوں کے اتحاد کا بہت ہی خوبصورت جلوہ ہے۔ عراقیوں کا اتحاد ہر مشکل سے ان کا تحفظ کرسکتا ہے اور اس اتحاد کے ہوتے ہوئے بعض عراقی گروہوں کے تخریبی اقدامات بھی آگے کی جانب بڑھتے ہوئے عراق کے سیاسی عمل کو کوئي نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں۔     .....

/169