اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کٹھ پتلی عرب حکمرانوں کی فلسطین پالیسی سے اعلانیہ پسپائی اور فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان زمین کے تبادلے پر مبنی امیر قطر کی تجویز اسرائیل کی خوشنودی کا سبب بنی ہے اور صہیونیوں نے خاص طور پر امیر قطر حمد بن خلیفہ آل ثانی کا شکریہ ادا کیا ہے۔صہیونی ریاست کے چینل 10 کے رپورٹر نے فلسطینی اتھارٹی کے غیر منتخب بہائی صدر محمود عباس کے اس موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ـ کہ وہ ساز باز کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے لئے تیار ہے اور اسرائیل کے ساتھ ساز باز کے لئے کوئی پیشگی شرط پیش نہیں کرے گا ـ کہا کہ محمود عباس نے چار سال قبل مذاکرات کے لئے پیشگی شرط پیش کی تھی اور کہا تھا کہ اسرائیل ابتداء میں نوآبادیوں کی تعمیر روک لے اور 1967 کی سرحدوں تک پسپائی اختیار کرے اور امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ خود ہی نوآبادیوں کے اندر نئی تعمیرات کے خاتمے اور 1967 کی سرحدوں تک اسرائیل کی پسپائی اور زمینوں کے تبادلے کی بات کریں گے۔؛ چنانچہ امریکی ساز باز کے مذاکرات کو دوبارہ شروع کروائیں گے۔ ادھر چینل 10 نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا انٹرویو نشر کیا جس میں اس نے کہا تھا کہ امریکہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان مصالحت کرانے کے اپنے وعدے کا پابند ہے اور اسرائیل اور فلسطین نامی دو ملکوں کے قیام کا خواہاں ہے اور اس منصوبے کو بارک اوباما کے 2011 کے اعلان کے مطابق، عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ رپورٹر نے کہا: فلسطینیوں نے امریکی تجویز کو قبول کرلیا ہے اور امریکیوں نے عرب لیگ کی منظوری بھی حاصل کرلی ہے۔ صہیونی رپورٹر نے اس کے بعد واشنگٹن کے دورے پر جانے والے قطری وزیر خارجہ حمد بن جاسم بن جبر اور عرب لیگ کے ایلچی کے مکالمے بھی نشر کئے۔حمد بن جاسم آل ثانی کہ کہنا تھا کہ 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق دو ملکوں کی تشکیل زمینوں کے تبادلے کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ صہیونی رپورٹر نے کہا کہ نیتن یاہو نے قطر کی تجویز تسلیم کرلی ہے اور صہیونی صدر شیمون پیرز نے بھی کہا ہے کہ کہ "حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے (یعنی عربوں نے) قدم آگے بڑھایا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ مصالحت کے لئے آمادگی پائی جاتی ہے، میں حقیقتاً خوش ہوگیا ہوں کیونکہ وہ ایسے منصوبے کو تسلیم کررہے ہیں جو ہمارے لئے بھی قابل قبول ہے۔ ادھر صہیونیوں نے شام کی صورت حال اور عربوں کی پسپائی نیز فلسطینی سرزمین پر عرب حکمرانوں کی سودے بازی کے بعد، عربوں کو کوئی مراعات دینے کے بجائے مسجدالاقصی پر حملے کی دعوت عام دی ہے اور مسجد قبۃالصخرہ کو صہیونی فوجیوں نے محاصرے میں لیا ہے۔ صہیونیوں نے منگل کو مسجدالاقصی کے تمام دروازوں سے اس پر حملے کی دعوت دی ہے۔ العالم نے مقبوضہ فلسطین سے رپورٹ دی ہے کہ صہیونیوں کی دھمکی اور حملے کی دعوت پر فلسطینی گروہوں نے بھی فلسطینی عوام کو دعوی دی ہے کہ وہ صہیونی فوجیوں اور پولیس کے شدید حفاظتی اقدامات کے باوجود مسجد الاقصی میں حاضری دیں۔ادھر فلسطینی علماء نے انتہاپسند یہودیوں کی اس دھمکی اور دعوت کو خطرناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صہیونی مسجد الاقصی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔بیت المقدس میں اعلی اسلامی کمیٹی کے سربراہ "شیخ عکرمہ صبری" نے العالم سے بات چیت کرتے ہوئے انتہاپسند صہیونیوں کی اس دعوت اور مسجد الاقصی کی بےحرمتی کے منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات مسلسل دہرائے جارہے ہیں اور صہیونی ریاست عرب حکام اور اسلامی ممالک کی بےتوجہی اور عدم اعتناء سے بھرپور فائدہ اٹھار ہی ہے۔ اور بیت المقدس اور فلسطین کو یہودیانے اور مسجد الاقصی کی بےحرمتی کے منصوبے پر عمل کررہی ہے۔ سیاسی مسائل کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالم اسلام اور جہان عرب صہیونیوں کے کے سامنے مضبوط موقف نہ اپنائیں بعید از قیاس نہیں ہے کہ انتہاپسند یہودی مسجد الاقصی پر حملہ کریں گے اور اس کی بےحرمتی کریں گے۔ المرابطین کمیٹی کے نائب سربراہ "خالد الحسینی" نے العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انتہاپسند یہودی ـ صہیونی وہ منظرنامہ دہرانے کے درپے ہیں جن انھوں نے حرم ابراہیمی میں انجام دیا تھا اور وہ اس بار مسجدالاقصی میں موجود مسلمانوں کا قتل عام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے شہر قدس کے باشندوں سے درخواست کی ہے کہ صہیونیوں کی اس سازش کا مؤثر مقابلہ کریں۔ادھر صہیونی طیاروں نے لبنانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہےپیر کے روز العالم نے لبنان سے رپورٹ دی کہ صہیونی طیاروں نے عربوں کی سودے بازی کے بعد لبنان کے جنوبی علاقوں سے لے کر بیروت کے نواح تک نچلی سطح پر پرواز کی جبکہ حالیہ چند دنوں سے صہیونی جارحیت کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ پیر کی صبح کو بھی صہیونی طیاروں نے کئی بار لبنانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جبکہ دوسری طرف سے لبنانی سرحدوں کے قریب صہیونی افواج کی جنگی مشقوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ساتھ ہی صہیونی افواج نے شام کے مقبوضہ علاقے جولان میں اور ترک حکومت نے صہیونیوں سے ہمآہنگ ہوکر انجرلیک ہوائی اڈے میں امریکی اور نیٹو فورسز کی موجودگی میں جنگی مشقوں کا اہتمام کیا ہے۔ انجرلیک شامی سرحدوں کے قریب ہے۔جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کو بھی جنوبی علاقوں میں ہر قسم کی صہیونی جارحیت کا سد باب کرنے کے لئے الرٹ دی گئی ہے۔ایک صہیونی افسر نے صہیونی چینل 2 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ شام اور لبنان کی صورت حال کے پیش نظر یہ مشقیں دشمن کے لئے ایک انتباہ کے مترادف ہیں۔ مشرق وسطی کے مسائل کےسیاس تجزیہ نگار "میخائیل عوض" نے العالم کے ہفتہ وار پروگرام "العین الاسرائیلیہ" سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست ان مشقوں کے ذریعے حکومت شام کے خلاف برسرپیکار دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ریف دمشق، حلب اور القصیر میں شامی افواج نے اسرائیل نواز وہابی دہشت گردوں پر مہلک وار کئے ہیں جس کے بعد اسرائیلیوں نے جنگی مشقوں کے ذریعے دہشت گردوں کے حوصلے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
........
/*