28 اپریل 2013 - 19:30
عراق ميں فرقہ وارانہ فتنہ انگيزي، بيروني سازش

عراق کے وزير اعظم نے ملک ميں فرقہ وارانہ فتنہ پھيلنے کے نتائج کي جانب سے خبردار کرتے ہوئے اس کو عراق کے خلاف بيروني سازش قرار ديا ہے - اسي کے ساتھ بزرگ مذہبي پيشوا آيت اللہ العظمي سيد علي سيستاني کے نمائندے نےتمام سياستدانوں سے ملک کي سالميت کے لئے متحد ہوجانے کي اپيل کي ہے –

ابنا: دوسري جانب عراقي سيکورٹي ذرائع نے فوجي اہلکاروں کے قتل ميں ملوث دو اہم ملزمان کو گرفتار کر ليا ہے-عراقي ذرائع کے مطابق  پانچ فوجيوں کے قتل ميں ملوث دو ملزموں کي گرفتاري قبائل کے تعاون سے صوبہ الانبار  سے عمل آئي ہے-ايک اور اطلاع يہ ہے کہ عراقي فوج نے شمالي شہر موصل کے نواحي علاقے جرن کا کنٹرول حاصل کرليا ہے جس پر کئي دن قبل دہشتگردوں نے قبضہ کرليا تھا- جرن پر قبضہ کرنے والوں نے فوج کے اعلي افسر کو يرغمال بنانے کے بعد اس علاقے پر قبضہ کيا تھا-مسلح افراد نے انيس اپريل کو صوبہ کرکوک ميں پانچ فوجيوں کو قتل کرديا اور بعد ازاں الحويجہ ميں دھرنا ديکر بيٹھے لوگوں کے درميان روپوش ہوگئے تھے، عراقي سيکورٹي اہلکاروں نے ملزموں کي گرفتار کے لئے خصوصي آپريشن شروع کيا تھا جو فوج اور مسلح افراد کے درميان جھڑپوں ميں تبديل ہوگيا-ان جھڑپوں ميں سيکڑوں افراد ہلاک اور زخمي ہوگغے تھے- الحويجہ ميں ہونے والي جھڑپوں کے بعد القاعدہ اور کالعدم بعث پارٹي کے مسلح عناصر نے بغداد اور ديگر شہروں ميں عراقي شہريوں اور سيکورٹي اہلکاروں پر حملے کرديئے ہيں- ايسے حملوں ميں اب تک دو سو افراد ہلاک اور تين سو سے زيادہ لوگ زخمي ہوگئے ہيں-گزشتہ سال کے آخري مہينوں کے دوران عراق کے شہروں الانبار، نينوا، صلاح الدين، کرکوک اور ديالہ ميں بدامني اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو اب بھي جاري ہے-بعض قيديوں کي رہائي، کالعدم باعث پارٹي کے عناصر سے سرکاري اداروں کو پاک کرنے سے متعلق قانون کي منسوخي احتجاجيون کے اہم مطالبات ميں شامل ہے، حکومت عراق نے کشيدگي کو کم کرنے کے لئے بعض صوبوں اور شہريوں ميں مسائل کا جائزہ لينے کے لئے خصوصي کميٹياں قائم کي تھيں تاکہ مظاہرين کے مطالبات کا جائزہ ليا جائے اور حتي حکومت نے بہت سے قيديوں کو رہا بھي کرديا تھا-ليکن حکومت کے تمامتر اقدامات کے باوجود عراق کے بعض سني آبادي والے علاقوں ميں بدامني کا سلسلہ ختم نہيں ہوسکا، وزيراعظم نورالمالکي کا کہنا ہے کہ ان واقعات ميں غير ملکي قوتوں کا ہاتھ ہے جن ميں عراقي حکام کے بقول ترکي، سعودي عرب اور قطر پيش پيش ہيں-اقوام متحدہ کے خصوصي نمائندے مارٹن کوبلر نے عراق ميں جاري بدامني پر تشويش ظاہر کرتے ہوئے  سياسي اور مذہبي رہنماؤں سے اپيل کي ہے کہ وہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے دور انديشي کا مظاہر کريں-عراق کے باثر مذہبي رہنما آيت اللہ سيستاني کے نمائندے نے بھي  صورتحال پر تشويش کا اظہار کرتے ہوئے ارکان پارليمان نے سے کہا ہے کہ وہ اپني عوامي ذمہ دارياں پوري کرنے کے لئے آگے آئيں-آيت اللہ سيستاني کے نمائندے احمد صافي نے کربلائے معلي ميں صحافيوں سے بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہوں کا قتل کرنے والوں کي جتني مذمت کي جائے کم ہے، انہوں نے ملک کي تمام سياسي قوتوں سے بھي اپيل کي  کہ وہ عراقي ارضي سالميت اور عوام کي تحفظ کي خاطر متحدہ ہوجائيں-عراق کے بعض ارکان پارليمان نے بھي الزام لگايا ہے کہ ملک کي بدامني ميں القا‏عدہ اور کالعدم بعث پارٹي کے عناصر ملوث ہيں- انہوں نے حکومت عراق سے اپيل کي ہے کہ وہ ملک کو بحران سے بچانے کے لئے انتہا پسندي اور بعثي عناصر کا راستہ روکنے کي کوشش کرے –

.......

/169