ابنا: عصام حداد کے ساتھ ایران کا دورہ کرنے والے وفد میں مصر کے صدارتی دفتر کے سربراہ محمد رفاعہ طہطاوی اور صدارتی دفتر کے نائب سربراہ سعد شیحہ شامل تھے۔
اس سے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان نے مصر کا دورہ کر کے شام کے بحران کے بارے میں مشاورت کی تھی۔ اور اس موقع پر طے پایا تھا کہ یہ مذاکرات ایران ، ترکی ، سعودی عرب اور مصرکے درمیان جاری رہنے چاہئيں۔
مصر کے صدر محمد مرسی کی تجویز پر شام کے بحران کے علاقائي حل کی تلاش کے لۓ چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئي تھی۔ لیکن سعودی عرب نے بعد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت نہ کی جس کی وجہ سے یہ چار رکنی کمیٹی عملی طور پر تین رکنی کمیٹی میں تبدیل ہوکر رہ گئي۔ اب شام کے بحران میں شدت آنےکے بعد مصر کو امید ہےکہ وہ اس کمیٹی کا احیاء کر کے شام کے بحران کے علاقائی حل کی تلاش کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرے گا۔ دوسری جانب شام کے بحران کے حل کے لۓ جنیوا معاہدے سمیت دوسرے معاہدے بھی موجود ہیں۔ لیکن یورپ اور شام کی حکومت کے مخالفین ان پر عمل درآمد کے سدراہ ہوئے ہیں۔
ایران نے بھی چھ نکاتی تجویز پیش کر کے شام کے بحران کے سفارتی حل کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔ یہ تجویز بعض ممالک کے علاوہ شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اخضر ابراہیمی کو پیش کی گئي۔ لیکن شام کے بحران کے حل سے متعلق کسی بھی تجویز اور معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا گيا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شام کی حکومت کے بعض مخالفین بشار اسد کی حکومت کو سرنگوں کرنے کے لۓ جنگ اور تشدد پسندی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اس گروہ کو خطے کے بعض عرب ممالک اور یورپ کی حمایت حاصل ہے۔ ان تمام امور کی وجہ سے شام کا بحران زیادہ پیچیدہ ہوگيا ہے اور اس سے نکلنے کے لۓ اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل ہوچکا ہے۔
موجودہ حالات میں یہ بات مسلم ہے کہ خطے میں پیدا شدہ خطرناک صورتحال کے پیش نظر شام پر ہر طرح کے حملے کے بہت بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔
قطر ، ترکی اور امریکہ کے حمایت یافتہ مسلح دہشتگرد گروہوں کو ترکی اور لبنان کی سرحدوں پر خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئي ہے۔ اور اب انھوں نے اردن کی سرزمین سے شام میں داخل ہونے کے لۓ اس ملک پر اپنے دباؤ میں شدت پیدا کردی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے بہانے شام میں نوفلائی زون قائم کرنے اور لیبیا کی طرح شام میں نیٹو کی فوجی مداخلت کے سناریو کو عملی جامہ پہنانے کے درپے ہیں۔
موجودہ حساس حالات کے پیش نظر ایران اور مصر شام کے بحران کے حل کے لۓ تشدد کے فوری خاتمے ، حکومت اور عوام کے نمائندوں کے مذاکرات اور پھر شام کے عوام کی تقدیر کے فیصلے کے لۓ آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد پر تاکید کرتے ہیں۔ بنابریں ایران شام کے بحران کے سیاسی حل میں مدد دینے کے لۓ مذاکرات کو جاری رکھنے پر آمادہ ہے۔
.....
/169