27 اپریل 2013 - 19:30

عراق کےوزيراعظم نے ملک کے شورش زدہ علاقوں سے فوج کو واپس بلانے سے انکار کرديا ہے-

ابنا: عراقي ذرائع کے مطابق وزيراعظم نوري المالکي نے يہ بات حکمران اتحاد کي سب سے بڑي جماعت مجلس اعلي اسلامي کے سربراہ عمار حکيم کے ساتھ ملاقات کے بعد کہي- انہوں نے کہاکہ  بدامني والے علاقوں سے فوج ہٹانے کا مطالبہ ايک سازش ہے جس کا مقصد مسلح افواج کي ساکھ خراب کرنا ہے، عراقي وزير اعظم نے کہا کہ جن علاقوں ميں امن بحال ہوگيا ہے وہاں فوج کے رہنے کا کوئي جواز نہيں ہے ہم ان علاقوں کي سيکورٹي فوج سے سول اداروں کو منتقل کررہے ہيں-انہوں نے قبائل اور قبائلي عمائدين سے بھي اپيل کي کہ وہ ملک کي سلامتي کے لئے خطرات پيدا کرنے والوں کے خلاف حکومت کا ساتھ ديں- اس موقع پر عراق کي بااثر سياسي جماعت مجلس اعلي اسلامي کے سربراہ عمار حکيم نے عوام سے اپيل کي کہ وہ ملک کے سيکورٹي اداروں کے خلاف اسلحہ اٹھانے سے گريز کريں-ادھر عراقي پارليمنٹ کي قومي سلامتي اور دفاع سے متعلق کميٹي کے سربراہ نے بھي  بدامني والے علاقوں سے فوج کے انخلا کو المناک قرار ديا ہے- حسن السيند نے کہا کہ بدامني والے علاقوں سے فوج کو باہر نکالنا ايک اسٹريٹجک غلطي ہوگي جس کے ملک کے لئے تباہ کن نتائج برامد ہونگے-کہا جارہا ہے کہ شمالي عراق کے شہر کرکوک  کے علاقے الحويجہ ميں منگل سے جاري جھڑپوں ميں اب تک درجنوں فوجي اور عام شہري مارے جاچکے ہيں-حکومت عراق کا کہنا ہے القاعدہ اور کالعدم بعث پارٹي کے عناصر فوج اور عام شہريوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہے ہيں.

.......

/169