ابنا: ايران کے وزير خارجہ نے عالمي سطح پر دہشتگردي، منشيات کے استعمال، اور منظم جرائم ميں اضافے کو خطے ميں بيروني طاقتوں کي مداخلت کا نتيجہ قرار ديا ہے۔يہ بات انہوں نے قزاقستان کے دارالحکومت الماتي ميں وسطي ايشيائي رياستوں اور مرکزي ايشيا کے ملکوں کے وزرائے خارجہ کے تيسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہي۔وزير خارجہ علي اکبر صالحي کا کہنا تھا کہ بيروني طاقتوں کي غاصبانہ موجودگي کي وجہ سے خطے ميں دہشتگردي منشيات اور منظم جرائم ميں اضافہ ہو رہا ہے- ايران کے وزير خارجہ نے يہ بات زور ديکر کہي کہ غيرملکي افواج کا مکمل انخلا ہي خطے کي مشکلات کے خاتمے کا واحد راستہ ہے۔انہوں نے واضح کيا کہ علاقے کي پسماندگي، تعليم کي کمي، ناکافي مالي وسائل، ناقص معاشي ڈھانچے اور مناسب سرمايہ کاري کے فقدان کي وجہ سے بھي خطے ميں بدامني کا ماحول پيدا ہو رہا ہے۔اسلامي جمہوريہ ايران کے وزير خارجہ نے کہا کہ شواہد اس بات کي نشاندھي کرتے ہيں کہ آئندہ سال کے دوران افغانستان ميں پوست کي کاشت مين تين گنا اضافہ ہوجائے گا جس سے پوري دنيا متاثر ہوگي، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ايک ہمسايہ ملک کي حثيت سے ايران ، اس ملک کے عہديداروں اور ديکر ملکوں سے اپيل کرتا ہے کہ وہ اس کي روک تھام کے لئے اپنا کردار ادا کريں۔دراين اثنا قزاقستان کے صدر نے افغانستان کو خطے ميں دہشتگردي اور انتہا پسندي کي سرگرميوں کا مرکز قرار ديا۔افغانستان کے بارے ميں الماتي اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قزاقستان کے صدر نور سلطان نذر بايوف نے کہا کہ دہشتگردي اور انتنہائي پسندي اب بھي خطے کے لئے ايک بڑا چيلنج ہے اور خطے کے ملکوں کو اس حقيقت کو مد نظر رکھنا چاہيے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
25 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 413269
ايران کے وزير خارجہ نے عالمي سطح پر دہشتگردي، منشيات کے استعمال، اور منظم جرائم ميں اضافے کو خطے ميں بيروني طاقتوں کي مداخلت کا نتيجہ قرار ديا ہے۔