ابنا: انہوں نے کہا کہ انسانيت کے دشمن بہت زيادہ کمزور ہوچکےہيں ليکن اس کے يہ معني نہيں کہ وہ فريب دينے اور نقصان پہنچانے کے قابل بھي نہيں رہ گئے ہيں بلکہ وہ اب بھي علاقے ميں اختلاف اور تصادم پيدا کے درپے ہيں تاکہ اس طريقے سے اپني اور صيہوني حکومت کي معيشت کو بچا سکيں۔
صدر مملکت ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ہميں ہوشيار رہنا چاہيے کہ خطے ميں رونما ہونے والي تبديليوں سےکہيں ايسا نہ ہو کہ صيہوني حکومت کو بچانے کے حيلے اپنا لئےجائيں اور علاقے ميں امريکي تسلط کي بنياديں مضبوط ہوجائيں-
انہوں نےکہا کہ دشمن ايران کے ايٹمي پروگرام کا بہانہ بناکر ايران پر پابندياں لگا رہا ہے اور اسے ترقي سے باز رکھنا چاہتا ہے ليکن يہ ان کي خام خيالي ہے کيوں کہ ايران کو ترقي اور پيش رفت سے کوئي بھي طاقت رک نہيں سکتي۔.......
/169