22 اپریل 2013 - 19:30
بحرين ميں انساني حقوق کي خلاف ورزي

بحرين کي سب سے بڑي اپوزيشن جماعت جمعيت الوفاق نے کہا ہےکہ پچھلے دس دنوں کے دوران حکومتي مظالم اور انساني حقوق کي پامالي کے واقعات ميں تيزي سے اضافہ ہوا ہے -

ابنا: جمعيت الوفاق کے انساني حقوق اور آزادي ونگ نے اپني رپورٹ ميں کہا ہے کہ گذشتہ تيرہ سے بائيس اپريل کے دوران عام شہريوں پر بحريني حکومت کے مظالم اور انساني حقوق کي پامالي ميں تيزي سے اضافہ ہوا ہے -
جمعيت الوفاق کے بيان ميں کہا گيا ہے کہ ان دس دنوں ميں بحريني سيکورٹي فورس اور سعودي فوجيوں نے ايک سو بتيس عام شہريوں کو گرفتار کيا ہے جن ميں ايک سو چھ مرد ، دس بچے اور دوخواتين شامل ہيں -
بحرين کي جمعيت الوفاق کے بيان ميں کہا گيا ہے کہ گذشتہ دس دنوں ميں بحريني سيکورٹي فورس نے کم ازکم بتيس افراد کو ايذارساني کے جرم کا ارتکاب کيا ہے اور انہتر رہائشي مکانات پر حملے کئےہيں-
اس بيان ميں يہ بھي کہا گيا ہے کہ اس مختصر سے عرصے ميں بحريني فورس نے ملک کے ستائيس علاقوں ميں زہريلي گيس اور گھٹن کا شکار بنانے دينے والے گولوں کا استعمال کرکے لوگوں کو اجتماعي طور پر سزاد ينے کي کوشش کي ہے - اس کے علاوہ بحريني سيکورٹي فورس نے گليوں اور سڑکوں پر عام شہريوں کو تشدد کا نشانہ بنايا -
  بحرين سے موصولہ اطلاعات ميں يہ بھي کہا گيا ہے کہ ملک کي ايک اور سياسي جماعت نيشنل ڈيموکریٹيک پارٹي کے سربراہ فاضل عباس کو باز پرس کے لئے سيکورٹي مراکز ميں طلب کيا گيا ہے -
بحريني حکومت نے کہا ہے کہ اگر فاضل عباس بازپرس کے لئے حاضر نہ ہوئے تو ان کے خلاف کاروائي کي جائے گي - اس درميان عرب ملکوں ميں انساني حقوق کي نگراني کرنےوالے عرب نيٹ ورک نے اپنے بيان ميں تين غير ملکي نامہ نگاروں کو بحرين سے نکال دينے کے آل خليفہ حکومت کے اقدام کي مذمت کي ہے -
اس بيان ميں کہا گيا ہے کہ برطانيہ کے تين نامہ نگاروں کو ملک کے سياسي حالات کي خبريں منتقل کرنے  کي وجہ سے ان کو بحرين سے نکال ديا جانا آل خليفہ حکومت کے دعوؤں کے جھوٹے ہونے کو ثابت کرتا ہے –

.....

/169